Al-Baqarah 2:188
Verse 188 of 286
وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَی الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟۠
ترجمہ
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دُوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاوٴ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دُوسروں کے مال کا کوئی حصہّ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔
English translation
Do not usurp one another’s possessions by false means, nor proffer your possessions to the authorities so that you may sinfully and knowingly usurp a portion of another’s possessions.
تفہیم القرآن — حواشی
- 197
اس آیت کا ایک مفہُوم تو یہ ہے کہ حا کموں کو رشوت دے کر ناجائز فائدے اُٹھانے کی کوشش نہ کرو۔ اور دُوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب تم خود جانتے ہو کہ مال دُوسرے شخص کا ہے، تو محض اس لیے کہ اس کے پاس اپنی ملکیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے یا اس بنا پر کہ کسی اینچ پینچ سے تم اس کو کھا سکتے ہو، اس کا مقدمہ عدالت میں نہ لے جا ؤ ۔ ہو سکتا ہے کہ حاکمِ عدالت روداد مقدمہ کے لحاظ سے وہ مال تم کو دِلوا دے۔ مگر حاکم کا ایسا فیصلہ دراصل غلط بنائی ہوئی روداد سے دھوکا کھا جانے کا نتیجہ ہو گا۔ اس لیے عدالت سے اس کی ملکیت کا حق حاصل کر لینے کے باوجود حقیقت میں تم اس کے جائز مالک نہ بن جا ؤ گے۔ عنداللہ وہ تمہارے لیے حرام ہی رہے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انما ان بشر و انتم تختصمون الی و لعل بعضکم یکون الحنَ بحجتہ من بعض، فا قضی لہ علی نحو ما اسمع منہ۔ فمن قضیت لہ بشی ء من حق اخیہ، فا نما ا قضی لہ قطعۃ من النار۔ یعنی میں بہر حال ایک انسان ہی تو ہوں ۔ ہو سکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لا ؤ اور تم سے ایک فریق دوسرے کی بہ نسبت زیادہ چرب زبان ہو اور اس کے دلائل سُن کر میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ مگر یہ سمجھ لو کہ اگر اس طرح اپنے کسی بھائی کے حق میں سے کوئی چیز تم نے میرے فیصلہ کے ذریعے سے حاصل کی، تو دراصل تم دوزخ کا ایک ٹکڑا حاصل کر و گے۔
