Al-Baqarah 2:124
Verse 124 of 286
وَاِذِ ابْتَلٰۤی اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ ۟
ترجمہ
یاد کرو کہ جب ابرہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا : ”میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں“۔ ابرہیم ؑنے عرض کیا : ”اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے“؟ اس نے جواب دیا:”میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے“
English translation
Recall when Abraham’s Lord tested him in certain matters and when he successfully stood the test, He said: “Indeed I am going to appoint you a leader of all people.” When Abraham asked: “And is this covenant also for my descendants?” the Lord responded: “My covenant does not embrace the wrong-doers.”
تفہیم القرآن — حواشی
- 124
قرآن میں مختلف مقامات پر اُن تمام سخت آزمائشوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے ، جن سے گزر کر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کیا تھا کہ انہیں بنی نوعِ انسان کا امام و رہنما بنایا جائے۔ جس وقت سے حق ان پر منکشف ہوا، اس وقت سے لے کر مرتے دم تک ان کی پوری زندگی سراسر قربانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں جتنی چیزیں ایسی ہیں، جن سے انسان محبّت کرتا ہے، اُن میں سے کوئی چیز ایسی نہ تھِ ، جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو۔ اور دنیا میں جتنے خطرات ایسے ہیں ، جن سے آدمی ڈرتا ہے ، اُن میں سے کوئی خطرہ ایسا نہ تھا ، جسے انہوں نے حق کی راہ میں نہ جھیلا ہو۔
- 125
یعنی یہ وعدہ تمہاری اولاد کے صرف اُس حصّے سے تعلق رکھتا ہے جو صالح ہو۔ ان میں سے جو ظالم ہوں گے، اُن کے لیے یہ وعدہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بات خود ظاہر ہو جاتی ہے کہ گمراہ یہُودی اور مشرک بنی اسمٰعیل اس وعدے کے مصداق نہیں ہیں۔
