Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:118

Verse 118 of 286

وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْلَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ۟

ترجمہ

نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتایا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ ایسی ہی باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔ ان سب (اگلے پچھلے گمراہوں ) کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں۔ یقین لانے والو ں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں۔

English translation

The ignorant say: “Why does Allah not speak to us? Why does no Sign come to us?” The same was said by people before them. Their hearts are all alike. We have made the Signs clear for people of firm faith.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 117

    اُن کا مطلب یہ تھا کہ خدا، یا تو خود ہمارے سامنے آکر کہے کہ یہ میری کتاب ہے اور یہ میرے احکام ہیں، تم لوگ ان کی پیروی کرو ، یا پھر ہمیں کوئی ایسی نشانی دکھائی جائے ، جس سے ہمیں یقین آجائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔

  2. 118

    یعنی آج کے گمراہوں نے کو ئی اعتراض اور کوئی مطالبہ ایسا نہیں گھڑا ہے، جو ان سے پہلے کے گمراہ پیش نہ کر چکے ہوں۔ قدیم زمانے سے آج تک گمراہی کا ایک ہی مزاج ہے اور وہ بار بار ایک ہی قسم کے شہبات اور اعتراضات اور سوالات دُہراتی رہتی ہے۔

  3. 119

    یہ  بات کہ خدا خود آکر ہم سے بات کیوں نہیں کرتا، اس قدر مہمل تھی کہ اس کا جواب دینے کی حاجت نہ تھی۔ جواب صرف اس بات کا دیا گیا ہے کہ ہمیں نشانی کیوں نہیں دکھائی جاتی۔ اور جواب یہ ہے کہ نشانیاں تو بے شمار موجود ہیں ، مگر جو جاننا چاہتا ہی نہ ہو ، اسے آخر کونسی نشانی دکھائی جا سکتی ہے۔

Al-Baqarah 2:118 — Translation & Tafsir | Read Maududi