Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Isra' 17:66

Verse 66 of 111

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا ۟

ترجمہ

تمہارا (حقیقی)ربّ تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے تا کہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے

English translation

Your Lord is He Who steers your vessels across the seas that you may seek of His Bounty. He is ever Merciful towards you.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 82

    اوپر کےسلسلہ بیان سے اس کا تعلق سمجھنے  کے لیے اس رکوع کے ابتدائی مضمون پر پھر ایک نگاہ ڈال لی جائے۔ اس میں یہ بتایا گیاہے کہ ابلیس اولِ روزِ آفرنیش سے اولاد آدم کے پیچھے پڑا ہوا ہے تا کہ اس کو آرزؤوں اور تمناؤں اور جھوٹے وعدوں کے دام میں پھانس  کر راہ راست سے ہٹا لے  جائے اور یہ ثابت کر دے کہ وہ اس بزرگی کا  مستحق نہی ہے جو اسے خدا نے  عطا کی ہے ۔ اس خطرے سےا گر کوئی چیز انسان کو بچا سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی بندگی پر ثابت قدم رہے اور ہدایت و اعانت کے لیے اُسی کی طرف رجوع کرے اور اسی کو اپنا وکیل(مدارِ توکل)بنائے۔ اس کے سوا دوسری جو راہ بھی انسان اختیار کرے گا، شیطان کے پھندوں سے نہ بچ سکے گا۔۔۔۔۔۔اس تقریر سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ جو لوگ توحید کی دعوت کو رد کر رہے ہیں اور شرک پر اصرار کیے جاتے ہیں وہ دراصل آپ ہی اپنی تباہی کے درپے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہاں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کیا جا رہا ہے۔

  2. 83

    یعنی ان معاشی اور تمدنی  اور علمی و ذہنی فوائد سے متمتع ہونے کی کوشش کرو جو بحری سفروں سے حاصل ہوتے ہیں۔

Al-Isra' 17:66 — Translation & Tafsir | Read Maududi