Al-Isra' 17:64
Verse 64 of 111
وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ؕ وَمَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا ۟
ترجمہ
تُو جس جس کو اپنی دعوت سے پھِسلا سکتا ہے پِھسلا لے، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا، مال اور اولاد میں ان کے ساتھ سا جھا لگا، اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس۔۔۔۔ اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں
English translation
Tempt with your call all whom you wish. Muster against them all your forces - your cavalry and your foot soldiers; share with them riches and offspring, and seduce them with rosy promises - and Satan's promise is nothing but a deception -
تفہیم القرآن — حواشی
- 76
اصل میں لفظ” استفزاز“ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی استحفاف کے ہیں۔ یعنی کسی کو ہلکا اور کمزور پا کر اسے بہالے جانا، یا اس کے قدم پھسلا دینا۔
- 77
اس فقرے میں شیطان کو اس ڈاکو سے تشبیہ دی گئی ہے جو کسی بستی پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لائے اور ان کو اشارہ کرتا جائے کہ ادھر لُوٹو، اُدھر چھاپہ مارو، اور وہاں غارتگری کرو۔ شیطان کے سواروں اور پیادوں سے مراد وہ سب جن اور انسان ہیں جو بے شمار مختلف شکلوں اور حیثیتوں میں ابلیس کے مشن کی خدمت کر رہے ہیں۔
- 78
یہ ایک بڑا ہی معنی خیز فقرہ ہے جس میں شیطان اور اس کے پیرووں کے باہمی تعلق کی پوری تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ جو شخص مال کمانے اور اس کو خرچ کرنے میں شیطان کے اشاروں پر چلتا ہے، اس کے ساتھ گویا شیطان مفت کا شریک بنا ہواہے ۔ محنت میں اس کا کوئی حصہ نہیں، جرم اور گناہ اور غلط کار ی کے بُرے نتائج میں وہ حصہ دار نہیں، مگراس کے اشاروں پر یہ بیوقوف اس طرح چل رہا ہے جیسے اس کے کاروبار میں وہ برابر کا شریک، بلکہ شریک غالب ہے ۔ اسی طرح اولاد تو آدمی کی اپنی ہوتی ہے ، اور اُسے پالنے پوسنے میں سارے پاپڑ آدمی خود بیلتا ہے، مگر شیطان کے اشاروں پر و ہ اس اولاد کو گمراہی اور بداخلاقی کی تربیت اس طرح دیتا ہے، گویا اس اولاد کا تنہا وہی باپ نہیں ہے بلکہ شیطان بھی باپ ہونے میں اس کا شریک ہے۔
- 79
یعنی ان کو غلط امیدیں دلا۔ ان کو جھوٹی توقعات کےچکر میں ڈال ۔ اُن کو سبز باغ دکھا۔
