Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Isra' 17:59

Verse 59 of 111

وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ ؕ وَاٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا ؕ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا ۟

ترجمہ

اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ اُن کو جُھٹلا چکے ہیں۔ (چنانچہ دیکھ لو)ثمود کو ہم علانیہ اُونٹنی لا کر دی اور اُنہوں نے اُس پر ظلم کیا۔ہم نشانیاں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں۔

English translation

Nothing hindered Us from sending Our Signs except that the people of olden times rejected them as lies. We publicly sent the she-camel to the Thamud to open their eyes but they wronged her. We never send Our Signs except to cause people to fear.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 67

    یعنی محسوس معجزات جو دلیل نبوت کی حیثیت سے پیش کیے جائیں ، جن کا مطالبہ کفار قریش بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرتے تھے۔

  2. 68

    مدعا یہ ہے کہ ایسا معجزہ دیکھ لینے کے بعد جب لوگ اُس کی تکذیب کرتے ہیں،تو پھر لا محالہ ان پر نزول ِ عذاب واجب ہوجا تا ہے، اور پھر ایسی قوم کو تباہ کیے بغیر نہیں چھوڑا جاتا ۔ پچھلی تا ریخ اس بات کی شاید ہے کہ متعدد قوموں نے صریح معجزے دیکھ لینے کے بعد بھی اُن کو جھٹلایا اور پھر تباہ کر دی گئیں۔ اب یہ سراسر اللہ کی رحمت ہے کہ وہ ایسا کوئی معجزہ نہیں بھیج رہا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمہیں سمجھنے اور سنبھلنے کے یے مہلت دے رہا ہے۔ مگر تم ایسے بیوقوف لوگ ہو کہ معجزے کا مطالبہ کر کر کے ثمود کے سے انجام سے دوچار ہونا چاہتے ہو۔

  3. 69

    یعنی معجزے دکھانے سے مقصود تماشا دکھانا تو کبھی نہیں رہا ہے ۔ اس سے مقصود تو ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگ انہیں دیکھ کر خبر دار ہو جائیں، انہیں معلوم ہو جائے کہ نبی  کی پشت پر قادرِ مطلق کی بے پناہ طاقت ہے ، اور وہ جان لیں کہ اس کی نا فرمانی کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔

Al-Isra' 17:59 — Translation & Tafsir | Read Maududi