Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nahl 16:76

Verse 76 of 128

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰی مَوْلٰىهُ ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ ۙ وَمَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۟۠

ترجمہ

اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں۔ ایک گونگا بہرا ہے ، کوئی کام نہیں کر سکتا ، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے۔ دُوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہِ راست پر قائم ہے۔ بتاوٴ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟

English translation

Allah sets forth another parable: There are two men, one of whom is dumb and has no power over anything; he is a burden to his master, and wheresoever his master directs him, he fails to bring forth any good. Can such a person be the equal of one who enjoins justice and himself follows the Right Way?

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 70

    پہلی مثال میں اللہ اور بناوٹی معبودوں کے فرق کو صرف اختیار اور بے اختیاری کے اعتبار سے نمایاں کیا گیا تھا۔ اب اس دوسری مثال  میں وہی فرق اور زیادہ کھول کر صفات کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اِن بناوٹی معبودوں کے درمیان فرق صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ایک با اختیار مالک ہے اور دوسرا بے اختیار غلام۔ بلکہ مزید برآں یہ فرق بھی ہے کہ یہ غلام نہ تمہاری پکار سنتا ہے ، نہ اس کا جواب دے سکتا ہے، نہ کوئی کام با ختیار ِ خود کر سکتا ہے۔ اس کی اپنی زندگی کا سارا انحصار اُس کے آقا کی ذات پر ہے۔ اور آقا اگر کوئی کام اس پر چھوڑ دے تو وہ کچھ بھی نہیں بنا سکتا۔ بخلاف اس کے آقا کا حال یہ ہے  کہ صرف ناطق ہی نہیں ناطق حکیم ہے، دنیا کو عدل کا حکم دیتا ہے۔ اور صرف فاعلِ مختار ہی نہیں، فاعلِ برحق ہے ، جو کچھ کرتا ہے راستی اور صحت کے ساتھ کرتا ہے۔ بتاؤ یہ کونسی دانائی  ہے کہ تم ایسے آقا اور ایسے غلام کو یکساں سمجھ رہے ہو؟

An-Nahl 16:76 — Translation & Tafsir | Read Maududi