Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nahl 16:36

Verse 36 of 128

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَی اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ ۟

ترجمہ

ہم نے ہر اُمّت میں ایک رسُول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبر دار کر دیا کہ ”اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔“ اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلّط ہو گئی۔ پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھُٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے

English translation

We raised a Messenger in every community (to tell them): "Serve Allah and shun the Evil One." Thereafter Allah guided some of them while others were overtaken by error. Go about the earth, then, and observe what was the end of those who rejected the Messengers, calling them liars.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 32

    یعنی تم اپنے شرک اور اپنی خود مختارانہ تحلیل و تحریم کے حق میں ہماری مشیت کو کیسے سند جواز بنا سکتے ہو ،  جبکہ ہم نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے اور ان کے ذریعہ سے لوگوں کو صاف صاف بتا دیا کہ تمہارا کام صرف ہماری بندگی کرنا ہے، طاغوت کی بندگی کے لیے تم پیدا نہیں کیے گئے ہو۔ اس طرح جبکہ ہم پہلے ہی معقول  ذرائع  سے  تم کو بتا چکے ہیں کہ تمہاری ان گمراہیوں کو ہماری  رضا  حاصل نہیں ہے  تو اس کے بعد ہماری مشیت کی آڑ لے کر  تمہارا اپنی گمراہیوں کو جائز ٹھیرانا صاف طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ تم چاہتے تھے کہ ہم سمجھانے والے رسول بھیجنے کے بجائے ایسے رسول بھیجتے جو ہاتھ پکڑ کر تم کو غلط راستوں سے کھینچ لیتے اور زبر دستی تمہیں راست رو بناتے۔ ( مشیت اور رضا کے فرق کو سمجھنے کے لیے  ملاحظہ ہو سورۂ انعام حاشیہ نمبر 8۰۔ سورۂ زمر  حاشیہ نمبر 2۰)۔

  2. 33

    یعنی ہر پیغمبر کی آمد کے بعد اُس  کی قوم دو حصّوں میں تقسیم ہوئی۔ بعض نے اس کی بات  مانی ( اور یہ مان لینا اللہ کی توفیق سے تھا) اور بعض اپنی گمراہی پر جمے رہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ  ہو سورۂ انعام حاشیہ نمبر 28)۔

  3. 34

    یعنی تجربے سے بڑھ کر تخلیق کے لیے قابل اعتماد کسوٹی اور کوئی نہیں ہے۔ اب تم خود  دیکھ لو کہ تاریخ انسانی کے پے درپے تجربات  کیا ثابت  کر رہے ہیں۔  عذابِ الہٰی فرعون و آلِ فرعون پر آیا یا  موسیٰؑ اور بنی اسرائیل پر؟ صالحؑ کے جھٹلانے والوں پر آیا یا ماننے والوں پر ؟ ہودؑ اور  نوحؑ اور دوسرے انبیاء کے منکرین پر آیا یا مومنین پر؟ کیا واقعی اِن تاریخی تجربات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جن لوگوں کو ہماری مشیت نے شرک اور شریعت  سازی کے ارتکاب کا موقع دیا تھا اُن کو  ہماری رضا حاصل تھی ؟ اس کے برعکس یہ واقعات تو صریحًا یہ ثابت کررہے ہیں کہ فہمائش  اور نصیحت کے باوجود جو لوگ اِن گمراہیوں پر اصرار کرتے ہیں انہیں ہماری مشیت ایک حد تک ارتکاب ِ جرائم کا موقع دیتی چلی جاتی ہے اور پھر ان کا سفینہ خوب بھر جانے کے بعد ڈبو دیا جاتاہے۔

An-Nahl 16:36 — Translation & Tafsir | Read Maududi