Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nahl 16:102

Verse 102 of 128

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَهُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ ۟

ترجمہ

اِن سے کہو کہ اسے تو روُح القُدس نے ٹھیک ٹھیک میرے ربّ کی طرف سے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائےاور انہیں فلاح و سعادت کی خوشخبری دے۔

English translation

Tell them: "It is the spirit of holiness that has brought it down, by stages, from your Lord so that it might bring firmness to those who believe, and guidance to the Right Way, and give glad tidings of felicity and success to those who submit to Allah."

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 104

    ”روح القدس“ کا لفظی ترجمہ ہے”پاک رُوح“ یا ”پاکیزگی“ ۔ اور اصطلاحًا  یہ لقب حضرت جبریلؑ کو دیا گیا ہے۔ یہاں وحی لانے والے فرشتے کا نام لینے کے بجائے اس کا لقب استعمال کرنے سے مقصود سامعین کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ اِس کلام کو ایک ایسی روح لے کر آرہی ہے جو بشری کمزوریوں اور نقائص سے پاک ہے۔ وہ نہ خائن  ہے کہ اللہ کچھ بھیجے اور وہ اپنی طرف سے کمی بیشی کر کے کچھ اور بنادے۔ نہ کذّاب و مفتری ہے کہ خود کوئی بات گھڑ کے اللہ کے نام سے بیان کر دے۔ نہ بدنیت ہے کہ اپنی کسی نفسانی غرض کی بنا پر دھوکے اور فریب سے کام لے۔ وہ سراسر ایک مقدس و مطہر روح ہے جو اللہ کا کلام پوری امانت کے ساتھ لا کر پہنچاتی ہے۔

  2. 105

    یعنی اُس کے بتدریج اِس کلام کو لے کر آنے اور بیک وقت سب کچھ نہ  لے آنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ کے علم و دانش میں کوئی نقص ہے ، جیسا کہ تم نے اپنی نادانی سے سمجھا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی قوتِ فہم اور قوتِ اخذ میں نقص ہے جس کے سبب سے وہ بیک وقت ساری بات کو نہ سمجھ سکتا ہے اور نہ ایک وقت کی سمجھی ہوئی بات میں پختہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت اِس بات کی مقتضی ہوئی کہ روح القدس اِس کلام  کو تھوڑا تھوڑا کر کے لائے، کبھی اجمال سے کام لے اور کبھی اسی بات کی تفصیل بتائے، کبھی ایک طریقہ سے بات سمجھائے اور کبھی دوسرے طریقے سے، کبھی ایک پیرایۂ بیان اختیار کرے اور کبھی دوسرا، اور ایک ہی بات کو بار بار طریقے طریقے سےذہن نشینن کر نے کی کوشش کرے ، تاکہ مختلف قابلیتوں اور استعدادوں کے طالبینِ حق ایمان لا سکیں اور ایمان لانے کے بعد علم و یقین اور فہم و ادراک میں پختہ ہو سکیں۔

  3. 106

    یہ اس تدریج کی دوسری مصلحت ہے۔ یعنی یہ کہ جو لوگ ایمان لا کر فرمانبرداری کی راہ چل رہے ہں ان کی دعوت ِ اسلامی کے کام میں اور زندگی کے پیش آمدہ مسائل میں جس  موقع پر جس قسم کی ہدایات درکار ہوں وہ  بر وقت دے دی جائیں ۔ ظاہر ہے کہ نہ انہیں قبل از وقت بھیجنا مناسب ہو سکتا ہے ، اور نہ بیک وقت ساری ہدایات دے دینا مفید ہے۔

  4. 107

    یہ اُس کی تیسری مصلحت ہے ۔ یعنی یہ کہ فرماں برداروں کو جن مزاحمتوں اور مخالفتوں سے سابقہ پیش آرہا ہے اور جس جس طرح انہیں ستایا اور تنگ کیا جا رہا ہے ، اور دعوتِ اسلامی کے کام میں مشکلات کے جو پہاڑ سدِّ راہ ہو رہےہیں، ان کی وجہ سے وہ بار بار اس کے محتاج ہوتے ہیں کہ بشارتوں سے ان کی ہمت بندھائی جاتی رہے اور ان کو آخری نتائج کی کامیابی کا یقین دلا یا جاتا رہے تاکہ وہ پُر امید رہیں اور دل شکستہ نہ ہونے پائیں۔

An-Nahl 16:102 — Translation & Tafsir | Read Maududi