Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Ibrahim 14:9

Verse 9 of 52

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ۛؕ۬ وَالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ ۟

ترجمہ

کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قومِ نوح ؑ ، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھُلی کھُلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ”جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔“

English translation

Have the accounts of your predecessors not reached you: the people of Noah, the Ad, the Thamud, and those who came after them - they whose number is not known to any except Allah? Their Messengers came to them with Clear Signs, but they thrust their hands in their mouths, and said: "We do surely reject the Message you have brought, and we are in disquieting doubt about what you are summoning us to."

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 14

    حضرت موسیٰ کی تقریر اوپر ختم ہوگئی۔ اب براہِ راست کفارِ مکہ سے خطاب شرو ع ہوتا ہے۔

  2. 15

    ان الفاظ کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان  بہت کچھ اختلاف پیش آیا ہے اور مختلف لوگوں نے مختلف معنی بیان کیے ہیں۔ ہمارے نزدیک اِن کا قریب ترین مفہوم وہ ہے جسے ادا کرنے کے لیے ہم اردو میں کہتے ہیں کانو ں پر ہاتھ رکھے، یا دانتوں میں انگلی دبائی۔ اس لیے کہ بعد کا فقرہ صاف طور پر انکار اور اچنبھے ، دونوں مضامین پر مشتمل ہے اور کچھ اس میں غصے کا انداز بھی ہے۔

  3. 16

    ”یعنی ایسا شک جس کی وجہ سے اطمینان رخصت ہو گیا ہے۔ یہ دعوتِ حق کا خاصہ ہے کہ جب وہ اٹھتی ہے تو اس کی وجہ سے ایک کھلبلی ضرور مچ جاتی ہے اور انکار و مخالفت کر نے والے بھی اطمینان کے ساتھ نہ اس کا انکار کر سکتے ہیں نہ اُس کی مخالفت ۔ وہ چاہے کتنی ہی شدت کے ساتھ اُسے رد کریں اور کتنا ہی زور اُس کی  مخالفت میں لگائیں ، دعوت کی سچائی ، اس کی معقول دلیلیں ، اُس کی کھر کھری اور بے لاگ باتیں ، اُس کی دل موہ لینے والی زبان ، اس کے داعی  کی بے داغ سیرت، اُس پر ایمان لانے والوں کی زندگیوں کا صریح انقلاب ، اور اپنے صدقِ مقال کے عین مطابق اُن کے پاکیزہ اعمال، یہ ساری چیزیں مِل جُل کر کٹَّے سے کٹّے مخالف کے دل میں بھی ایک اضطراب پیدا کر دیتی ہیں۔ داعیانِ حق  کو بے چین کرنے والا خود بھی چین سے محروم ہو جاتا ہے۔

Ibrahim 14:9 — Translation & Tafsir | Read Maududi