Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Ibrahim 14:10

Verse 10 of 52

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَیُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۟

ترجمہ

اُن کے رسوُلوں نے کہا”کیا خُدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بُلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدُتِ مقرر تک مہلت دے۔“ انہوں نے جواب دیا ”تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اچھا تو لاوٴ کوئی صریح سَنَد۔“

English translation

Their Messengers said: "Can there be any doubt about Allah, the Creator of the heavens and the earth? He invites you that He may forgive you your sins and grant you respite till an appointed term." They replied: "You are only a human being like ourselves. You seek to prevent us from serving those whom our forefathers have been serving all along. If that is so, produce a clear authority for it."

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 17

    رسولوں نے یہ بات اس لیے کہی کہ ہر زمانے  کے مشرکین خدا کی ہستی  کو مانتے تھَ اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق وہی  ہے ۔ اسی بنیاد پر رسولوں نے فرمایا کہ آخر تمہیں شک کس چیز پر ہے ؟ ہم جس چیز کی طرف تمہیں دعوت دیتے ہیں  وہ اِس کے سوا اور کیا ہے  کہ اللہ فاطر السمٰوات والارض تمہاری بندگی کا حقیقی مستحق ہے۔ پھر کیا اللہ کے بارے میں تم کو شک ہے؟

  2. 18

    مدّتِ مقرر سے مراد افراد کی موت کا وقت بھی ہو سکتا ہے  اور قیامت بھی۔ جہاں تک قوموں کا تعلق ہے  ان  کے اُٹھنے اور گرنے کے لیے اللہ کے ہاں مدت کا تعیّن اُن کے اوصاف کی شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ ایک اچھی قوم اگر اپنے اندر بگاڑ پیدا کرلے تو اس کی مہلتِ عمل گھٹا دی جاتی ہے اور اسے تباہ کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک بگڑی ہوئی قوم اگر اپنے بُرے اوصاف کو اچھے اوصاف سے بدل لے تو اس کی مہلت عمل بڑھا دی جاتی ہے ، حتیٰ کہ وہ قیامت تک بھی دراز ہو سکتی ہے۔ اسی مضمون کی طرف سورۂ رعد کی آیت نمبر 11 اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حال کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے اوصاف کو نہ بدل  دے۔

  3. 19

    اُن کا مطلب یہ تھا کہ تم ہر حیثیت سے بالکل ہم جیسے  انسان ہی نر آتے ہو۔ کھاتے ہو،  پیتے ہو، سوتے ہو، بیوی بچے رکھتے ہو، بھوک ، پیاس ، بیماری، دُکھ، سردی، گرمی، ہر چیز کے احساس  میں  اور ہر بشری کمزوری میں ہمارے مشابہ ہو۔ تمہارے اندر کوئی غیر معمولی پن ہمی نظڑ نہیں آتا جس کی بنا پر ہم یہ مان لیں کہ تم کوئی پہنچے ہوئے لوگ ہو اور خدا تم سے ہم کلام ہوتا ہے اور فرشتے تمہارے پاس آتے ہیں۔

  4. 20

    یعنی کوئی ایسی سند جسے ہم آنکھوں سے دیکھیں اور ہاتھوں سے چھوئیں اور جس سے ہم کو یقین آجائے کہ واقعی خدا نے تم کو بھیجا ہے اور یہ پیغام جو تم لائے ہو خدا ہی کا پیغام ہے۔

Ibrahim 14:10 — Translation & Tafsir | Read Maududi