Ibrahim 14:1
Verse 1 of 52
الٓرٰ ۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ۟ۙ
ترجمہ
ا۔ل۔ر، اے محمد ؐ ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاوٴ، ان کے ربّ کی توفیق سے، اُس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمُود ہے
English translation
Alif. Lam. Ra'. This is a Book which We have revealed to you that you may bring forth mankind from every kind of darkness into light, and direct them, with the leave of their Lord, to the Way of the Mighty, the Innately Praiseworthy,
تفہیم القرآن — حواشی
- 1
یعنی تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے کا مطلب شیطان راستوں سے ہٹا کر خدا کے راستے پر لانا ہے ، دوسرے الفاظ میں ہر وہ شخص جو خدا کی راہ پر نہیں ہے وہ دراصل جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ، خواہ وہ اپنے آپ کو کتنا ہی روشن خیال سمجھ رہا ہو اور اپنے زعم میں کتنا ہی نور علم سے منور ہو۔ بخلاف ا س کے جس نے خدا کا راستہ پا لیا وہ علم کی روشنی میں آگیا، چاہے وہ ایک اَن پڑھ دیہاتی ہی کیوں نہ ہو۔ پھر یہ جو فرمایا کہ تم اِن کو اپنے رب کے اذن یا اُس کی توفیق سے خدا کے راستے پر لاؤ، تو اس میں دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی ، مبلّغ ، خوا ہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو، راہِ راست پیش کر دینے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ کسی کو اس راستہ پر لے آنا اُ س کے بس میں نہیں ہے۔ اِس کا انحصار سراسر اللہ کی توفیق اور اُس کے اذن پر ہے۔ اللہ کسی کو توفیق دے تو وہ ہدایت پا سکتا ہے، ورنہ پیغمبر جیسا کام مبلغ اپنا پورا زور لگا کر بھی اس کو ہدایت نہیں بخش سکتا۔ رہی اللہ کی توفیق ، تو اس کا قانون بالکل الگ ہے جسے قرآن میں مختلف مقامات پر وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے ہدایت کی توفیق اُسی کو ملتی ہے جو خود ہدایت کا طالب ہو، ضد اور ہٹ دھرمی اور تعضب سے پاک ہو، اپنے نفس کا بندہ اور اپنی خواہشات کا غلام نہ وہ، کھلی آنکھوں سے دیکھے، کھلے کانوں سے سُنے، صاف دماغ سے سوچے، اور معقول بات کو بے لاگ طریقہ سے مانے۔
- 2
”حمید“ کا لفظ اگر چہ محمُود ہی کا ہم معنی ہے ، مگر دونوں لفظوں میں ایک لطیف فرق ہے۔ محمُود کسی شخص کو اُسی وقت کہیں گے جبکہ اس کی تعریف کی گئی ہو یا کی جاتی ہو۔ مگر حمید آپ سے حمد کا مستحق ہے ، خواہ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے۔ اس لفظ کاپورا مفہوم ستودہ صفات ، سزا و ارِ حمد اور مستحقِ تعریف جیسے الفاظ سے ادا نہیں ہو سکتا، اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ”اپنی ذات میں آپ محمود“ کیا ہے۔
