Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Ar-Ra'd 13:6

Verse 6 of 43

وَیَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ ؕ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ ۟

ترجمہ

یہ لوگ بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی)عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا ربّ سخت سزا دینے والا ہے

English translation

They challenge you to hasten the coming of evil upon them before the coming of any good, although people who followed a like course before had met with exemplary punishment (from Allah). Verily your Lord is forgiving to mankind despite all their wrong-doing. Verily your Lord is also severe in retribution.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 14

    کفار ِ مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اگر تم واقعی نبی ہو اور تم دیکھ رہے ہو کہ ہم نے تم کو جھٹلا دیا ہے تو اب آخر ہم پر وہ عذاب آ کیوں نہیں جاتا جس کی تم ہم کو دھمکیاں دیتے ہو؟  اس کی آنے میں خواہ مخواہ دیر کیوں لگ رہی ہے؟ کبھی وہ چیلنج کے انداز میں کہتے کہ   رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ (خدایا ہمارا حساب تو ابھی کردے، قیامت پر نہ اٹھا رکھ)۔ اور کبھی کہتے کہ   اَلَّھُمّے اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِ کَ فَاَ مْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَ ۃً مِّنَ السَّمَآ ءِ اَوِأْ تِنَا بِعَذَ ابٍ اَلِیْمٍ۔(خدایا  اگر یہ باتیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں حق ہیں اور تیری ہی طرف سے ہیں تو ہم پر آسمان  سے پتھر برسایا  کوئی دردناک عذاب نازل کر دے)۔ اس آیت میں کفار انہی باتوں کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ نادان خیر سے پہلے شر مانگتے ہیں  ، اللہ کی طرف ان کو سنبھلنے کے لیے جو مہلت دی جارہی ہے اس سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مہلت کو جلدی ختم کر دیا جائے اور ان کی باغیانہ روش پر  فورًا گرفت کر ڈالی جائے۔

Ar-Ra'd 13:6 — Translation & Tafsir | Read Maududi