Ar-Ra'd 13:18
Verse 18 of 43
لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰی ؔؕ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ۙ۬ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ؕ وَبِئْسَ الْمِهَادُ ۟۠
ترجمہ
جن لوگوں نے اپنے ربّ کی دعوت قبول کر لی اُن کے لیے بھلائی ہے، اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کر لیں تو وہ خُدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے بُری طرح حساب لیا جائے گا اور اُن کا ٹھکانا جہنّم ہے، بہت ہی بُرا ٹھکانہ
English translation
There is good reward for those who respond to the call of their Lord. And those who do not respond to their Lord, (a time will come when) they shall offer all they have - even if they have all the riches of the world and the like of it besides to redeem themselves (from the chastisement of Allah). They will be subjected to a severe reckoning and Hell shall be their refuge. What a wretched resting place it is!
تفہیم القرآن — حواشی
- 33
یعنی اُس وقت ان پر ایسی مصیبت پڑے گی کہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے دنیا و مافیہا کی دولت دے ڈالنے میں بھی تامل نہ کریں گے۔
- 34
بُری حساب فہمی یا سخت حساب فہمی سے مطلب یہ ہے کہ آدمی کی کسی خطا اور کسی لغزش کو معاف نہ کیا جائے ، کوئی قصور جو اس نے کیا ہو مؤاخذے کے بغیر نہ چھوڑا جائے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کا محاسبہ اپنے اُن بندوں سے کرے گا جو اُس کے باغی بن کر دنیا میں رہے ہیں۔ بخلاف اس کے جنہوں نے اپنے خدا سے وفاداری کی ہے اور اس کی مطیع فرمان بن کر رہے ہیں ان سے ”حسابِ یسیر“ یعنی ہلکا حساب لیا جائے گا، اُ ن کی خدمات کے مقابلے میں ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور اُن کے مجموعی طرزِ عمل کی بھلائی کو ملحوظ رکھ کر اُن کی بہت سی کوتاہیوں سے صرفِ نظر کر لیا جائے گا۔ اس کی مزید توضیح اُس حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت عائشہ ؓ سے ابوداؤد میں مروی ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے نزدی کتاب اللہ سب سے زیادہ خوفناک آیت وہ ہے جس میں ارشاد ہو ا ہے کہ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓ ءً یُّجْزَ بِہٖ۔ ”جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا“۔ اس پر حضور ؐ نے فرمایا، عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کی مطیع فرمان بندے کو دنیا میں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے ، حتیٰ کہ اگر کوئی کانٹا بھی اُس کو چبھتا ہے ، تو اللہ اُسے اُس کے کسی نہ کسی قصور کی سزا قرار دے کر دنیا ہی میں اس کا حساب صاف کر دیتا ہے؟ آخرت میں تو جس سے بھی محاسبہ ہو گا وہ سزا پا کر رہے گا۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ فَاَمَّا مَنْ اُوْ تِیَ کِتَابَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْ فَ یُحَا سَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا؟ ”جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا“۔ حضورؐ نے جواب دیا ، ا س سے مراد ہے پیشی(یعنی اس کی بھلائیوں کے ساتھ اُس کی برائیاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ضرر پیش ہوں گی) مگر جس سے باز پرس ہوئی تو وہ بس سمجھ لو کہ مارا گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص اپنے وفادار اور فرمانبردار ملازم کو چھوٹی چھوٹی خطاؤں پر کبھی سخت گرفت نہیں کرتا بلکہ اس کے بڑے بڑے قصوروں کو بھی اس کی خدمات کے پیشِ نظر معاف کر دیتا ہے ۔ لیکن اگر کسی ملازم کی غداری و خیانت ثابت ہو جائے تو اس کی کوئی خدمت قابل لحاظ نہیں رہتی اور اس کے چھوٹے بڑے سب قصور شمار میں آجاتے ہیں۔
