Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Yusuf 12:70

Verse 70 of 111

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۟

ترجمہ

جب یُوسُف ؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک پُکارنے والے نے پُکار کر کہا”اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو۔“

English translation

Then, while Joseph was having their provisions loaded, he put his drinking-cup in his brother's saddlebag. And then a herald cried: "Travellers, you are thieves."

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 58

    پیالہ رکھنے کافعل غالبًا حضرت  یوسفؑ نے اپنے بھائی ک رضا مندی سے  اور اس کے علم میں کیا تھا جیسا کہ  اس سے پہلے والی آیت اشارہ کر رہی ہے۔ حضرت یوسفؑ اپنے مدتوں کے بچھڑے ہوئے بھائی کو ان ظالم  سوتیلے بھائیوں کے پنجے  سے چھڑانا چاہتے ہوں گے۔ بھائی خود بھی ان ظالموں کے ساتھ واپس نہ جانا چاہتا ہو گا۔ مگر علانیہ آپ کا اسے روکنا اور اس کا رُک جانا بغیر اس کے ممکن نہ تھا کہ حضرت یوسفؑ اپنی شخصیت کو ظاہر کرتے۔ اور اس کا اظہار اس موقع پر مصلحت کے خلاف تھا۔ اس لیے دونوں بھائیوں میں مشورہ ہوا ہو گا کہ اسے روکنے کے یہ تدبیر کی  جائے۔ اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے اس میں بھائی کی سبکی تھی کہ اس پر چوری کا دھبہ لگتا تھا ، لیکن بعد میں یہ دھبہ اس طرح بآسانی دُھل سکتا تھا کہ دونوں بھائی اصل معاملہ کو دنیا  پر ظاہر کر دیں۔

  2. 59

    اس آیت  میں ، اور بعد والی آیات میں بھی کہیں ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے  جس سے یہ گمان کیا جا سکے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے ملازموں کو اس راز میں شریک کیا تھا اور انہیں خود یہ سکھایا تھا کہ قافلے والوں پر جھوٹا الزام لگاؤ۔ واقعے کی سادہ صورت جو سمجھ میں آتی  ہے وہ یہ ہے کہ پیالہ خاموشی  کے ساتھ رکھ دیا ہو گا ، بعد میں جب سرکاری ملازموں نے اسے نہ پایا ہو گا تو قیاس  کیا ہو گا کہ ہو نہ ہو یہ کام انہی قافلے والوں میں سے کسی کا ہے جو یہاں ٹھیرے ہوئے تھے۔

Yusuf 12:70 — Translation & Tafsir | Read Maududi