Yusuf 12:69
Verse 69 of 111
وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰۤی اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟
ترجمہ
یہ لوگ یُوسُف ؑ کے حضُور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ”میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا)۔ اب تُو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔“
English translation
When they presented themselves before Joseph, he took his brother aside to himself and said: "Verily I am your own brother Joseph; so do not grieve over the manner they have treated you."
تفہیم القرآن — حواشی
- 57
اس فقرے میں وہ ساری داستان سمیٹ دی گئی ہے جو اکیس بائیس برس کے بعد دونوں ماں جائے بھائیوں کے ملنے پر پیش آئی ہو گی ۔ حضرت یوسفؑ نے بتایا ہو گا کہ وہ کن حالات سے گزرتے ہوئے اس مرتبے پر پہنچے۔ بنیامین نے سنایا ہوگا کہ ان کے پیچھے سوتیلے بھائیوں نے اس کے ساتھ کیا کیا بد سلوکیاں کیں۔ پھر حضرت یوسفؑ نے بھائی کو تسلی دی ہو گی کہ اب تم میرے پاس ہی رہو گے، ان ظالموں کے پنجوں میں تم کو دوبارہ نہیں جانے دوں گا۔ بعید نہیں کہ اسی موقع پر دونوں بھائیوں میں یہ بھی طے ہو گیا ہوگا کہ بنیامین کو مصر میں روک رکھنے کے لیے کیا تدبیر کی جائے جس سے وہ پردہ بھی پڑا رہے جو حضرت یوسفؑ مصلحتًہ ابھی ڈالے رکھنا چاہتے تھے۔
