Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Yusuf 12:31

Verse 31 of 111

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ ۟

ترجمہ

اس نے جو اُن کی یہ مکّارانہ باتیں سُنیں تو اُن کو بُلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک ایک چھُری رکھ دی۔ (پھر عین اُس وقت جب کہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں)اس نے یُوسُف کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ۔ جب ان عورتوں کی نگاہ اُس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پُکار اُٹھیں”حاشالِلّٰہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔“

English translation

Hearing of their sly talk the chief's wife sent for those ladies, and arranged for them a banquet, and got ready couches, and gave each guest a knife. Then, while they were cutting and eating the fruit, she signalled Joseph: "Come out to them." When the ladies saw him they were so struck with admiration that they cut their hands, exclaiming: "Allah preserve us. This is no mortal human. This is nothing but a noble angel!"

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 27

    یعنی ایسی مجلس جس میں مہمانوں کے لیے تکیے لگے ہوئے تھے۔ مصر کے آثار قدیمہ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان کی مجلسوں میں تکیوں کا استعمال  بہت ہوتا تھا۔ بائیبل میں اس ضیافت کا کوئی ذکر نہیں ہے البتہ تلمود میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے ، مگر وہ قرآن سے بہت مختلف ہے۔ قرآن کے بیان میں جو زندگی ، جو روح، جو فطریّت اور جو اخلاقیت پائی جاتی ہے  اس سے تلمود کا بیان بالکل خالی ہے۔

Yusuf 12:31 — Translation & Tafsir | Read Maududi