Yusuf 12:109
Verse 109 of 111
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰی ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۟
ترجمہ
اے محمد ؐ ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اَور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر)تقوٰی کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟
English translation
The Messengers whom We raised before you, (O Muhammad), and to whom We sent down revelations, were only human beings, and were from among those living in earthly habitations. Have these people not travelled in the earth that they may observe the end of their predecessors? Certainly the abode of the Hereafter is much better for those (who accepted the call of the Messengers and) acted in a God-fearing manner. Will you still not act with good sense?
تفہیم القرآن — حواشی
- 81
یہاں ایک بہت بڑے مضمون کو دو تین جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اس کو اگر کسی تفصیلی عبارت میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے : یہ لوگ تمہاری بات کی طرف اس لیے توجہ نہیں کرتے کہ جو شخص کل ان کے شہر میں پیدا ہوا اور انہی کے درمیان بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوا اس کے متعلق یہ کیسے مان لیں کہ یکایک ایک روز خدا نے اُسے اپنا سفیر مقرر کر دیا۔ لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے جس سے آج دنیا میں پہلی مرتبہ انہی کو سابقہ پیش آیا ہو۔ اس سے پہلے بھی خدا اپنے نبی بھیج چکا ہے اور وہ سب بھی انسان ہی تھے ۔ پھر یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اچانک ایک اجنبی شخص کسی شہر میں نمودار ہوگیا ہو اور اس نے کہا ہو کہ میں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ بلکہ جو لوگ بھی انسانوں کی اصلاح کے لیے اُٹھائے گئے وہ سب ان کی اپنی ہی بستیوں کے رہنے والے تھے۔ مسیح ، موسیٰ ، ابراہیم، نوح علیہم السلام ، آخر کون تھے؟ اب تم خود ہی دیکھ لو کہ جن قوموں نے ان لوگوں کی دعوتِ اصلاح کو قبول نہ کیا اور اپنے بے بنیاد تخیلات اور بے لگام خواہشات کے پیچھے چلتی رہیں ان کا انجام کیا ہوا۔ تم خود اپنے تجارتی سفروں میں عاد، ثمود ، مدین اور قوم لوط وغیرہ کے تباہ شدہ علاقوں سے گزرتے رہے ہو۔ کیا وہاں کوئی سبق تمہیں نہیں ملا؟ یہ انجام جو انہوں نے دنیا میں دیکھا، یہی تو خبر دے رہا ہے کہ عاقبت میں وہ اس سے بد تر انجام دیکھیں گے۔ اور یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں اپنی اصلاح کر لی وہ صرف دنیا ہی میں اچھے نہ رہے، آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ بہتر ہو گا“۔
