Hud 11:91
Verse 91 of 123
قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ؗ وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ ۟
ترجمہ
انہوں نے جواب دیا ”اے شعیب ؑ ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تُو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے ، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔“
English translation
They said: 'O Shu'ayb! We do not understand much of what you say. Indeed we see you weak in our midst. Were it not for your kinsmen, we would surely have stoned you for you have no strength to overpower us.
تفہیم القرآن — حواشی
- 101
یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضر شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چاک تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں ۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس دنیا کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
- 102
یہ بات پیشِ نظر رہے کہ بعینہٖ یہی صورت حال اِن آیات کے نزول کے وقت مکہ میں درپیش تھی۔ اس وقت قریش کے لوگ بھی اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور چاہتے تھے کہ آپ کی زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ لیکن صرف اس وجہ سے آپ پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرتے تھے کہ بنی ہاشم آپ کی پشت پر تھے۔ پس حضرت شعیب اور ان کی قوم کا یہ قصہ ٹھیک ٹھیک قریش اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ پر چسپاں کرتے ہوئے بیان کیا جارہا ہے، اور آگے حضرت شعیب کا جو انتہائی سبق آموز جواب نقل کیا گیا ہے اس کے اندر یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ اے قریش کے لوگو، تم کو بھی محمدؑ کی طرف سے یہی جواب ہے۔
