Hud 11:88
Verse 88 of 123
قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَرَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا ؕ وَمَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰی مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ؕ وَمَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَیْهِ اُنِیْبُ ۟
ترجمہ
شعیب ؑ نے کہا ”بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک کھُلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا (تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہاراشریکِ حال کیسے ہو سکتا ہوں؟)۔اور میں ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے۔ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کر طرف رُجوع کرتا ہوں
English translation
Shu'ayb said: 'My people! What do you think? If I stand on clear evidence from my Lord, and He has also provided me a handsome provision from Himself -(should I be ungrateful to Him and share your error and iniquity?) Nor do I desire to act contrary to what I admonish you. I desire nothing but to set things right as far as I can. My succour is only with Allah. In Him have I put my trust, and to Him do I always turn.
تفہیم القرآن — حواشی
- 97
رزق کا لفظ یہاں دوہرے معنی دے رہا ہے۔ اس کے ایک معنی تو علمِ حق کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشا گیا ہو ۔ اور دوسرے معنی وہی ہیں جو بالعموم اس لفظ سے سمجھے جاتے ہیں، یعنی وہ ذرائع جو زندگی بسر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیتا ہے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے یہ آیت اُسی مضمون کو ادا کر رہی ہے جو اس سورے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، نوحؑ اور صالحؑ کی زبان سے ادا ہوتا چلا آیا ہے کہ نبوت سے پہلے بھی میں اپنے رب کی طرف سے حق کی کھلی کھلی شہادت اپنے نفس میں اور کائنات کے آثار میں پا رہا تھا، اور اس کے بعد میرے ربّ نے براہِ راست علمِ حق بھی مجھے دے دیا ۔ اب میرے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ جان بوجھ کر اُن گمراہیوں اور بد اخلاقیوں میں تمہارا ساتھ دوں جن میں تم مبتلا ہو ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے یہ آیت اُس طعنے کا جواب ہے جو ان لوگوں نے حضرت شعیبؑ کو دیا تھا کہ”بس تم ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گئے ہو“۔ اس تند و ترش حملے کا یہ ٹھنڈا جواب دیا گیا ہے کہ بھائیو، اگر میرے رب نے مجھے حق شناس بصیرت بھی دی ہو اور رزقِ حلال بھی عطا کیا ہو تو آخر تمہارے طعنوں سے یہ فضل غیر فضل کیسے ہو جائے گا۔ آخر میرے لیے یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ جب خدا نے مجھ پر یہ فضل کیا ہے تو میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں کو حق اور حلال کہہ کر اس کی ناشکری کروں۔
- 98
یعنی میری سچائی کا تم اس بات سے اندازہ کر سکتے ہو کہ جو کچھ دوسروں سے کہتا ہوں اُسی پر خود عمل کرتا ہوں۔ اگر میں تم کو غیر اللہ کے آستانوں سے روکتا اور خود کسی آستانے کا مجاور بن بیٹھا ہوتا تو بلاشبہ تم یہ کہہ سکتے تھے کہ اپنی پیری چمکانے کے لیے دوسری دکانوں کی ساکھ بگاڑنا چاہتا ہے ۔ اگر میں تم حرام کے مال کھانے سے منع کرتا اور خود اپنے کاروبا ر میں بے ایمانیاں کر رہا ہوتا تو ضرور تم یہ شبہہ کر سکتے تھے کہ میں اپنی ساکھ جمانے کے لیے ایمانداری کو ڈھول پیٹ رہاہوں ۔ لیکن تم دیکھتے ہو کہ میں خود ان برائیوں سے بچتا ہوں جن سے تم منع کرتا ہوں ۔ میری اپنی زندگی ان دھبوں سے پا ک ہے جن سے تمہیں پاک دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے لیے بھی اُسی طریقے کو پسند کیا ہے جس کی تمہیں دعوت دے رہا ہوں ۔ یہ چیز اس بات کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ میں اپنی اس دعوت میں صادق ہوں۔
