Hud 11:78
Verse 78 of 123
وَجَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ ؕ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ ۟
ترجمہ
(ان مہمانوں کا آنا تھا کہ) اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دَوڑ پڑے۔ پہلے سے وہ ایسی ہی بدکاریوں کے خوگر تھے۔ لُوط ؑ نے ان سے کہا”بھائیو، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں۔ کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ؟“
English translation
And his people came to him rushing. Before this they were wont to commit evil deeds. Lot said: 'My people! Here are my daughters; they are purer for you. Have fear of Allah and do not disgrace me concerning my guests. Is there not even one right-minded person in your midst?'
تفہیم القرآن — حواشی
- 86
ہو سکتا ہے کہ حضرت لوطؑ کا اشارہ قوم کی لڑکیوں کی طرف ہو۔ کیونکہ نبی اپنی قوم کے لیے بمنزلہ باپ ہوتا ہے اور قوم کی لڑکیاں اس کی نگاہ میں اپنی بیٹیوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا اشارہ خود اپنی صاحبزادیوں کی طرف ہو۔ بہر حال دونوں صورتوں میں یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ حضرت لوطؑ ان سے زنا کرنے کے لیے کہا ہو گا۔ ”یہ تمہارے پاکیزہ تر ہیں“ کا فقرہ ایسا غلط مفہوم لینے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا ۔ حضرت لوطؑ کا منشا صاف طور پر یہ تھا کہ اپنی شہوتِ نفس کو اُس فطری اور جائز طریقے سے پورا کرو جو اللہ نے مقرر کیا ہے اور اس کے لیے عورتوں کی کمی نہیں ہے۔
