Hud 11:105
Verse 105 of 123
یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیْدٌ ۟
ترجمہ
جب و ہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ پھر کچھ لوگ اس روز بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
English translation
And when the appointed Day comes, no one shall even dare to speak except by the leave of Allah. Then some will be declared wretched, others blessed.
تفہیم القرآن — حواشی
- 105
یعنی یہ بے وقوف لوگ اپنی جگہ اس بھروسے میں ہیں کہ فلاں حضرت ہماری سفارش کر کے ہمیں بچالیں گے ، فلاں بزرگ اَڑ کر بیٹھ جائیں گے اور اپنے ایک ایک متوسل کو بخشوا ئے بغیر نہ مانیں گے ، فلاں صاحب جو اللہ میاں کے چہیتے ہیں جنت کے راستے میں مچل بیٹھیں گے اور اپنے دامن گرفتوں کی بخشش کا پروانہ لے کر ہی ٹلیں گے ۔ حالانکہ اَڑنا اور مچلنا کیسا، اُس پُر جلال عدالت میں تو کسی بڑے سے بڑے انسان اور کسی معزز سے معزز فرشتے کو بھی مجال دم زدن تک نہ ہو گی اور اگر کوئی کچھ کہہ بھی سکے گا تو اُس وقت جبکہ احکم الحاکمین خود اسے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیدے۔ پس جو لوگ یہ سمجھتے ہوئے غیر اللہ کے آستانوں پر نذریں اور نیازیں چڑھا رہے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں بڑا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اور اُن کی سفارش کے بھروسے پر اپنے نامۂ اعمال سیاہ کیے جا رہے ہیں ، ان کو وہاں سخت مایوسی سے دوچار ہونا پڑے گا۔
