Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Fil 105:2

Verse 2 of 5

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ ۟ۙ

ترجمہ

کیا اُس نے اُن کی تدبیر کو اَکارَت نہیں کر دیا؟

English translation

Did He not bring their plan to naught?

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 3

    اصل میں لفظ کَید استعمال کیا گیا ہے جو کسی شخص کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ تدبیر کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہاں خفیہ کیا چیز تھی؟ ساٹھ ہزار کا لشکر کئی ہاتھی لیے ہوئے اعلانیہ یمن سے مکّہ  آیا تھا،  اور اُس نے یہ بات چھُپا کر نہیں رکھی تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھانے آیا ہے۔ اس لیے یہ تدبیر تو خفیہ نہ تھی۔ البتہ جو بات خفیہ تھی وہ حبشیوں کی یہ غرض تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھا کر قریش کو کُچل کر ، اور تمام اہلِ عرب کو مرعوب کر کے تجارت کا وہ راستہ عربوں سے چھین لینا چاہتے تھے جو جنوبِ عرب سے شام و مصر کی طرف جاتا ہے۔ اِس غرض کو اُنہوں نے چھُپا رکھا تھا  اور ظاہر یہ کیا تھا کہ اُن کلیسا کی  جو بے حُرمتی عربوں نے کی ہے اس کا بدلہ وہ اُن کا معبد ڈھا کر لینا چاہتے ہیں۔

  2. 4

    اصل میں الفاظ ہیں فِیْ تَضْلِیْلٍ۔ یعنی ان کی تدبیر کو اُس نے ”گمراہی میں ڈال دیا“۔ لیکن محاورے میں کسی تدبیر کو گمراہ کر نے کا مطلب اُسے ضائع کر دینا  اور اسے اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام کردینا ہے، جیسے ہم اردو زبان میں کہتے ہیں فلاں شخص کا کوئی داؤں نہ چل سکا، یا اس کا کوئی تیر نشانے پر نہ بیٹھا۔ قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے وَمَا کَیْدُ الْکَافِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلَالٍ  ” مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی“(المومن۔25)۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہوا وَاَنَّ اللہَ لَا یَھْدِیْ کَیْدَ الْخآئِنِیْنَ ” اور یہ کہ اللہ خائنوں کی چال کو کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا“(یوسف 52) اہلِ عرب امرؤ القیس کو اَلْمَلِکُ الضَّلِیْل ، ”ضائع کرنے والا بادشاہ“ کہتے تھے، کیونکہ اس نے اپنے باپ سے پائی ہوئی بادشاہی کو کھو دیا تھا۔

Al-Fil 105:2 — Translation & Tafsir | Read Maududi