Yunus 10:93
Verse 93 of 109
وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰی جَآءَهُمُ الْعِلْمُ ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ۟
ترجمہ
ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور نہایت عمدہ وسائل ِ زندگی انہیں عطا کیے۔ پھر اُنہوں نے بہم اختلاف نہیں کیا مگر اُس وقت جب کہ علم اُن کے پاس آچکا تھا۔ یقیناً تیرا ربّ قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کر تے رہے ہیں
English translation
We settled the Children of Israel in a blessed land, and provided them with all manner of good things. They only disagreed among themselves after knowledge (of the truth had) come to them. Surely your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning their disagreements.
تفہیم القرآن — حواشی
- 94
یعنی مصر سے نکلنے کے بعد ارض فلسطین۔
- 95
مطلب یہ ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنے دین میں جو تفرقے برپا کیے اور نئے نئے مذہب نکالے اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو حقیقت کا علم نہیں دیا گیا تھا اور ناواقفیت کی بنا پر انہوں نے مجبورًا ایسا کیا، بلکہ فی الحقیقت یہ سب کچھ ان کے اپنے نفس کی شرارتوں کا نتیجہ تھا۔ خدا کی طرف سے تو انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ دینِ حق یہ ہے ، یہ اس کے اصول ہیں، یہ اس کے تقاضے اور مطالبے ہیں، یہ کفر و اسلام کے امتیازی حدود ہیں، طاعت اِس کو کہتے ہیں، معصیّت اِس کا نام ہے، اِن چیزوں کی باز پرس خدا کے ہاں ہونی ہے ، اور یہ وہ قواعد ہیں جن پر دنیا میں تمہاری زندگی قائم ہونی چاہیے ۔ مگر ان صاف صاف ہدایتوں کے باوجود اُنہوں نےایک دین کے بیسیوں دین بنا ڈالے اور خدا کی دی ہوئی بنیادوں کو چھوڑ کر کچھ دوسری ہی بنیادوں پر اپنے مذہبی فرقوں کی عمارتیں کھڑی کر لیں۔
