Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Yunus 10:88

Verse 88 of 109

وَقَالَ مُوْسٰی رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّاَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤی اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۟

ترجمہ

موسیٰؑ نے دعاکی”اے ہمارے ربّ ، تُو نے فرعون اور اُس کے سرداروں کو دُنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے۔ اے ربّ ، کیا یہ اِس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے ربّ ، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مُہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔“

English translation

Moses prayed: 'Our Lord! You bestowed upon Pharaoh and his nobles splendour and riches in the world. Our Lord! Have You done this that they may lead people astray from Your path? Our Lord! Obliterate their riches and harden their hearts that they may not believe until they observe the painful chastisement.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 86

    اُوپر کی آیات  حضرت  موسیٰ کی دعوت کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور یہ دعا  زمانہ ٔ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے کی ہے۔ بیچ میں کئی برس کا طویل فاصلہ ہے جس کی تفصیلات کی یہاں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں اس بیچ کے دور کا بھی مفصّل حال بیا ن ہواہے۔

  2. 87

    یعنی ٹھاٹھ ، شان و شوکت ور تمدّن و تہذیب کی وہ خوش نمائی جس کی وجہ سے دنیا اُن پر اور ان کے طور طریقوں پر ریجھتی ہے اور ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ ویسا ہی بن جائے جیسے وہ ہیں۔

  3. 88

    یعنی ذرائع اور وسائل جن کی فراوانی کی وجہ سے وہ اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے کے لیے ہر طرح کی آسانیاں رکھتے ہیں اور کن کے فقدان کی وجہ سے اہلِ حق اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے سے عاجز رہ جاتے ہیں۔

  4. 89

    جیسا کہ ابھی ہم بتا چکے ہیں، یہ دعا حضرت موسیٰ نے زمانۂ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے میں کی تھی اور ا س وقت  کی تھی جب پے دَر پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہو جانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت حق کی دشمنی پر انتہائی ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے ۔ ایسے موقع پر پیغمبر جو بد دعا کرتا ہے وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہوتی ہے جو کفر پر اصرار کر نے والوں کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، یعنی یہ کہ پھر انہیں ایمان  کی توفیق نہ بخشی جائے۔

Yunus 10:88 — Translation & Tafsir | Read Maududi