Yunus 10:54
Verse 54 of 109
وَلَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ ؕ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۚ وَقُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ۟
ترجمہ
اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اُسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا۔ جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے۔ مگر ان کے درمیان پورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا، کوئی ظلم ان پر نہ ہو گا
English translation
If a wrong-doer had all that is in the earth he would surely offer it to ransom himself. When the wrong-doers perceive the chastisement, they will feel intense remorse in their hearts. But a judgement shall be made with full justice about them. They shall not be wronged.
تفہیم القرآن — حواشی
- 59
جس چیز کو عمر بھر جھٹلاتے رہے ، جسے جھوٹ سمجھ کر ساری زندگی غلط کاموں میں کھپا گئے اور جس کی خبر دینے والےپیغمبروں کو طرح طرح کے الزام دیتے رہے ، وہی چیز جب ان کی توقعات کے بالکل خلاف اچانک سامنے آکھڑی ہوگی تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے گی، ان کا ضمیر انہیں خود بتا دے گا کہ جب حقیقت یہ تھی تو جو کچھ وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اُ س کا انجام اب کیا ہونا ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ زبانیں بند ہوں گی اور ندامت و حسرت سے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے ہوں گے ۔ جس شخص نے قیاس ق گمان کو سودے پر اپنی ساری پونجی لگا دی ہو اور کسی خیر خواہ کی بات مان کر نہ دی ہو ، وہ دیوالہ نکلنے کے بعد خود اپنے سوا اور کس کی شکایت کر سکتا ہے۔
