Yunus 10:22
Verse 22 of 109
هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ ۚ وَجَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۚ۬ لَىِٕنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ ۟
ترجمہ
وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر با دِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ گھِر گئے،اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اُس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ”اگر تُو نے ہم کو اِس بلا سے نجات دے دی تو ہم شُکر گزار بندے بنیں گے۔“
English translation
He it is Who enables you to journey through the land and the sea. And so it happens that when you have boarded the ships and they set sail with a favourable wind, and the passengers rejoice at the pleasant voyage, then suddenly a fierce gale appears, and wave upon wave surges upon them from every side, and people believe that they are surrounded from all directions, and all of them cry out to Allah in full sincerity of faith: 'If You deliver us from this we shall surely be thankful.
تفہیم القرآن — حواشی
- 31
یہ توحید کے برحق ہونے کی نشانی ہر انسان کے نفس میں موجود ہے۔ جب تک اسباب سازگار رہتے ہیں ، انسان خدا کو بھولا اور دنیا کی زندگی پر پھولا رہتا ہے۔ جہاں اسباب نے ساتھ چھوڑ ا اور وہ سب سہارے جن کے بل پر وہ جی رہا تھا ٹوٹ گئے ، پھر کٹّے سے کٹّے مشرک اور سخت سے سخت دہریے کے قلب سے بھی یہ شہادت اُبلنی شروع ہو جاتی ہے کہ اس سارے عالم اسباب پر کوئی خدا کار فرما ہے اور وہ ایک ہی خدائے غالب و توانا ہے۔ (ملاحظہ ہو الانعام، حاشیہ نمبر 29)۔
