Yunus 10:104
Verse 104 of 109
قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ ۖۚ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟ۙ
ترجمہ
اے نبیؐ ! کہہ دو کہ لوگو، ”اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سُن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں اُن کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اُسی خدا کر بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں
English translation
(O Prophet!) Tell them: 'Men! If you are still in doubt concerning my religion, know that I do not serve those whom you serve beside Allah. I only serve Allah Who will cause (all of) you to die. I have been commanded to be one of those who believe,
تفہیم القرآن — حواشی
- 106
جس مضمون سے تقریر کی ابتدا کی گئی تھی اسی پر اب تقریر کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ تقابل کے لیے پہلے رکوع کے مضمون پر پھر ایک نظر ڈال لی جائے۔
- 107
متن میں لفظ یَتَوَفّٰکُمْ ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ”جو تمہیں موت دیتا ہے“۔ لیکن اس لفظی ترجمہ سے اصل روح ظاہر نہیں ہوتی ۔ اس ارشاد کی روح یہ ہے کہ ”وہ جس کے قبضے میں تمہاری جان ہے، جو تم پر ایسا مکمل حاکمانہ اقتدار رکھتا ہے کہ جب تک اس کی مرضی ہو اسی وقت تک تم جی سکتے ہو اور جس وقت اس کا اشارہ ہو جائے اسی آن تمہیں اپنی جان اُس جان آفرین کے حوالے کردینی پڑتی ہے، میں صرف اُسی کی پرستش اور اسی کی بندگی و غلامی اور اسی کی اطاعت و رمانبرداری کا قائل ہوں “۔ یہاں اتنا اور سمجھ لینا چاہیے کہ مشرکینِ مکہ یہ مانتے تھے اور آج بھی ہر قسم کے مشرک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موت صرف اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے ، اس پر کسی دوسرے کا قابو نہیں ہے۔ حتیٰ کہ جن بزرگوں کو یہ مشرکین خدائی صفات و اختیارات میں شریک ٹھیراتے ہیں ان کے متعلق بھی وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خود اپنی موت کا وقت نہیں ٹال سکا ہے۔ پس بیان مدعا کے لیے اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات میں سے کسی دوسری صفت کا ذکر کرنے کے بجائے یہ خاص صفت کہ”وہ جو تمہیں موت دیتا ہے “ یہاں اس لیے انتخاب کی گئی ہے کہ اپنا مسلک بیان کر نے کے ساتھ ساتھ اس کے صحیح ہونے کی دلیل بھی دے دی جائے۔ یعنی سب کو چھوڑ کر میں اُس کی بندگی اس لیے کرتا ہوں کہ زندگی و موت پر تنہا اسی کا اقتدار ہے۔ اور اس کے سوا دوسروں کی بندگی آخر کیوں کروں جب کہ وہ خود اپنی زندگی وموت پر بھی اختیار نہیں رکھتے کجا کہ کسی اور کی زندگی و موت کے مختار ہوں۔ پھر کمال بلاغت یہ ہے کہ ”وہ مجھے موت دینے والا ہے“ کہنے کے بجائے”وہ جو تمہیں موت دیتا ہے“ فرمایا۔ اس طرح ایک ہی لفظ میں بیانِ مدعا، دلیل مدعا، اور دعوت الی المدعیٰ، تینوں فائدے جمع کر دیے گئے ہیں۔ اگر یہ فرمایا جا تا کہ”میں اس کی بندگی کرتا ہوں جومجھے موت دینے والا ہے“ تو اس سے صرف یہی معنی نکلتے کہ”مجھے اس کی بندگی کرنی ہی چاہیے“۔ اب جو یہ فرمایاکہ”میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو تمہیں موت دینے والا ہے“، تو اس سے یہ معنی نکلے کہ مجھے ہی نہیں ، تم کو بھی اُسی کی بندگی کرنی ہی چاہیے اورتم یہ غلطی کر رہے ہو کہ اس کے سوا د دوسروں کی بندگی کیے جاتے ہو۔
