Yunus 10:10
Verse 10 of 109
دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟۠
ترجمہ
وہاں اُن کی صدا یہ ہوگی کہ”پاک ہے تُو اے خدا“، اُن کی یہ دُعا ہوگی کہ ”سلامتی ہو“ اور اُن کی ہر بات کا خاتمہ اِس پر ہو گا کہ ”ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔“
English translation
Their cry in it will be: 'Glory be to You, Our Lord!', and their greeting: 'Peace!'; and their cry will always end with: 'All praise be to Allah, the Lord of the universe.
تفہیم القرآن — حواشی
- 14
یہاں ایک لطیف انداز میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے دار الامتحان سے کامیاب ہو کر نکلنے اور نعمت بھری جنتوں میں پہنچ جانے کے بعد یہ نہیں ہو گا کہ یہ لوگ بس وہاں پہنچے ہی سامانِ عیش پر بھوکوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے اور ہر طرف سے لاؤ حوریں ، لاؤ شراب اور بجے چنگ و رباب کی صدائیں بلند ہونے لگیں گے، جیسا کہ جنت کا نام سُنتے ہی بعض کج فہم حضرات کےذہن میں اس کا نقشہ گھومنے لگتا ہے ۔ بلکہ درحقیقت صالح اہلِ ایمان دنیا میں افکارِ عالیہ اور اخلاقِ فاضلہ اختیار کر کے ، اپنے جذبات کو سنواور کر ، اپنی خواہشات کو سُدھار کر، اور اپنی سیرت و کردار کو پاکیزہ بنا کر ، جس قسم کی بلند ترین شخصیتیں اپنی ذات میں بہم پہنچائیں گے وہی دنیا کے ماحول سے مختلف، جنت کے پاکیزہ ترین ماحول میں اور زیادہ نکھر کر اُبھر آئیں گے اور ان کےوہی اوصاف، جو دنیا میں اُنہوں نے پرورش کیے تھے وہاں اپنی پوری شان کے ساتھ اُن کی سیرت میں جلوہ گر ہوں گے۔ ان کا محبوب ترین مشغلہ وہی اللہ کی حمد و تقدیس ہوگا جس سے دنیا میں وہ مانوس تھے، اور اُن کی سوسائٹی میں وہی ایک دوسرے کی سلامتی چاہنے کا جذبہ کار فر ما ہوگا جسے دنیا میں اُنہوں نے اپنے اجتماعی رویے کی روح بنایا تھا۔
