More Books
کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیرِ نظر مضمون دراصل کتاب "مسئلہ قربانی" کا ایک نہایت اہم اور فکر انگیز حصہ ہے جس میں **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے قربانی کے اسلامی حکم ہونے، اس کی شرعی حیثیت اور اس کے خلاف اٹھائے جانے والے فتنوں کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔ اس تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے یہ ایک معمول بن چکا ہے کہ بقر عید کی آمد کے ساتھ ہی قربانی کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی جاتی ہے۔ اخبارات، رسائل اور پمفلٹس کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں یہ وسوسہ ڈالا جاتا ہے کہ قربانی کوئی دینی حکم نہیں بلکہ مولویوں کی ایجاد کردہ ایک رسم ہے جو معاشی نقصان کا باعث ہے۔ اگرچہ ہر سال علمائے کرام ان اعتراضات کا تفصیلی جواب دیتے ہیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں قربانی کے واجب اور مسنون ہونے کو ثابت کرتے ہیں، لیکن مخالفین اگلے سال پھر وہی پرانے اعتراضات دہرانا شروع کر دیتے ہیں، گویا پچھلے سال کوئی وضاحت پیش ہی نہیں کی گئی تھی۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حکومت کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ قانون بنا کر قربانی کو محدود یا ختم کر دے۔ **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے اس صورتِ حال کا تقابل ہندوستان کے حالات سے کرتے ہوئے ایک بہت بڑی ستم ظریفی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ تقسیم ہند سے قبل مسلمان جس قوم (ہندوؤں) کے ساتھ برسرپیکار تھے، وہ ہمیشہ سے گائے کی قربانی کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان آج انتہائی مغلوبیت کی حالت میں ہیں اور ان سے قربانی کا حق چھین لیا گیا ہے۔ لیکن حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان، جو اسلامی تہذیب کے تحفظ کے لیے حاصل کیا گیا تھا، وہاں کے کچھ لوگ خود ہی ہندوؤں والی سوچ اپنا رہے ہیں۔ یہ لوگ حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ قربانی کو قانونی طور پر بند کر دیا جائے۔ مصنف کے نزدیک یہ رویہ انتہائی شرمناک ہے کہ جس مذہبی حق کے لیے مسلمان انگریز دور میں لڑتے رہے، اب اپنے ہی ملک میں نام نہاد مسلمان اسے ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی خیر خواہی کے پردے میں اسلامی شعائر پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور متفق علیہ مسائل میں بھی اختلاف پیدا کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے مسلمانوں کے تاریخی اتفاقِ رائے (اجماع) کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امت مسلمہ پہلے ہی بہت سے فرقوں اور گروہوں میں بٹ چکی ہے، ایسے میں خیر خواہی کا تقاضا تو یہ تھا کہ مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کی جاتی، مگر یہ فتنہ پرداز لوگ ان مسائل کو بھی متنازع بنا رہے ہیں جن پر پہلی صدی ہجری سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا اتفاق رہا ہے۔ قربانی کا مسئلہ ان چند مسائل میں سے ہے جن پر اہل سنت، اہل تشیع، اہل حدیث اور تمام فقہی مکاتبِ فکر کا ہمیشہ سے اجماع رہا ہے۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں کبھی کسی نے قربانی کے مشروع ہونے پر شک نہیں کیا۔ ایسے میں کسی کا یہ کہنا کہ قربانی اسلام کا حصہ نہیں، سوائے تفرقہ بازی اور شیطانی وسوسے کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس فتنے کی سب سے خطرناک بنیاد وہ دلیل ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ "قربانی کا حکم قرآن میں کہاں ہے؟"۔ **مولانا** نے اس اعتراض کو اسلام کی جڑوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس اعتراض کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اسلام میں حجت اور سند صرف قرآن ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یہ نظریہ درحقیقت رسالت کے انکار کے مترادف ہے۔ مصنف دلیل دیتے ہیں کہ جس خدا نے قرآن نازل کیا، اسی نے رسول بھی بھیجا۔ اگر ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی پر یقین نہ کریں تو ہمارے پاس یہ ماننے کی بھی کوئی دلیل نہیں بچتی کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ قرآن کا کلامِ الٰہی ہونا بھی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعے معلوم ہوا۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم رسول کی لائی ہوئی کتاب کو تو مانیں لیکن خود رسول کے دیے ہوئے احکام اور ان کے عمل کو رد کر دیں؟ یہ رویہ کہ "جو حکم قرآن میں ہوگا وہی مانیں گے" اس بات کا اعلان ہے کہ ہم اللہ کی کتاب کو تو مانتے ہیں لیکن اس کے رسول کی اطاعت کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ قرآن خود رسول کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیتا ہے۔ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے اس تصور کو بھی سختی سے رد کیا ہے کہ معاذ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت محض ایک "ڈاکیے" کی سی تھی کہ پیغام پہنچایا اور کام ختم ہو گیا۔ قرآن کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے لیے حاکم، مربی، معلم اور جج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپؐ کے فیصلے اور احکام مسلمانوں پر اسی طرح واجب التعمیل ہیں جس طرح قرآن کے احکام۔ کسی مسلمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ رسول کے حکم کے مقابلے میں یہ سوال اٹھائے کہ یہ بات قرآن میں ہے یا نہیں۔ رسول کی ذات بذاتِ خود ایک سند ہے۔ مزید برآں، مصنف نے اس گمراہ کن نظریے کی بھی شدید مذمت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام صرف ان کے دور کے لیے تھے کیونکہ وہ اس وقت کے سربراہِ مملکت تھے۔ یہ رسالت کا بدترین تصور ہے۔ سربراہِ مملکت اور رسول میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سربراہ کو عوام منتخب کرتے ہیں اور ہٹا بھی سکتے ہیں، جبکہ رسول کو خدا مقرر کرتا ہے اور اس پر ایمان لانا قیامت تک کے ہر انسان پر لازم ہے۔ سربراہ کے حکم سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر رسول کے حکم سے اختلاف یا اس کے بارے میں دل میں تنگی محسوس کرنا بھی ایمان کو ضائع کر دیتا ہے۔ رسول کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ وہ خدا کی منشا کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے اس فتنے کے دور رس نتائج سے خبردار کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ہم صرف قرآن کے الفاظ تک محدود ہو جائیں اور سنتِ رسول کو دین سے نکال دیں تو اسلامی تہذیب و تمدن کا سارا ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا۔ آج مسلمانوں کے پاس جو عبادات کا نظام اور ملی شعائر ہیں، ان کا نوے فیصد حصہ سنتِ نبوی سے ماخوذ ہے اور بمشکل دس فیصد براہِ راست قرآن کی تفصیلات میں ملتا ہے۔ مثال کے طور پر اذان، جو دنیا بھر میں مسلمانوں کی پہچان ہے اور دن میں پانچ بار گونجتی ہے، اس کے الفاظ قرآن میں کہیں نہیں ہیں۔ قرآن میں صرف نماز کے لیے پکارنے کا ذکر ہے، لیکن اذان کے الفاظ اور طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا۔ اسی طرح نماز کی رکعات، نمازِ جنازہ، عیدین کی نمازیں اور مساجد کا نظام، یہ سب چیزیں سنت اور حدیث سے ثابت ہیں۔ اگر رسول کے اختیار کو چیلنج کیا جائے تو نہ اذان باقی رہے گی، نہ نماز کا موجودہ طریقہ اور نہ ہی مسجدوں کا یہ نظام۔ یہ تصور پوری امت کو منتشر کر دے گا اور مسلمانوں کے پاس کوئی ایسی بنیاد نہیں رہے گی جس پر وہ ایک امت بن سکیں۔ لہٰذا سنت کا انکار دراصل اسلام کے پورے عملی ڈھانچے کو مسمار کرنے کی سازش ہے۔ قربانی کے مخصوص مسئلے کی طرف آتے ہوئے **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** فرماتے ہیں کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ قرآن میں قربانی کا حکم نہیں ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قرآن اصول بیان کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جزئیات طے کرتے ہیں۔ قرآن نے حکم دیا کہ نماز پڑھو، لیکن طریقہ رسول نے بتایا۔ اسی طرح قرآن نے یہ اصول بیان کیا کہ مشرکین اپنے بتوں کے لیے نذر و نیاز اور قربانیاں کرتے تھے، دینِ حق نے ان تمام چیزوں کا رخ غیر اللہ سے موڑ کر اللہ کی طرف کر دیا۔ مشرکین بتوں کے آگے جھکتے تھے، اسلام نے نماز اللہ کے لیے خاص کر دی۔ وہ غیر اللہ کے لیے خیرات کرتے تھے، اسلام نے زکوٰۃ اللہ کے لیے مقرر کر دی۔ وہ استھانوں کا طواف کرتے تھے، اسلام نے بیت اللہ کا حج فرض کر دیا۔ بالکل اسی طرح وہ بتوں کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے، اسلام نے حکم دیا کہ "فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ" (اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور اسی کے لیے قربانی کر)۔ **مولانا** اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو جو نعمتیں دی ہیں، ان کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ مال، جان اور جسم کی طرح جانور بھی اللہ کی نعمت ہیں اور ان کا شکریہ یہی ہے کہ انہیں اللہ کے نام پر قربان کیا جائے۔ قرآن نے اصول بتا دیا کہ قربانی صرف اللہ کے لیے ہوگی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے دکھایا، اس کے ایام مقرر کیے، جانوروں کی قسمیں بتائیں اور اس کی حدود متعین کیں۔ یہ تفصیلات طے کرنا رسول کا منصبی فریضہ تھا جسے آپؐ نے اللہ کی رہنمائی میں سر انجام دیا۔ لہٰذا قربانی قرآن کے اصول اور سنتِ رسول کی تفصیلات دونوں سے ثابت شدہ ایک اہم ترین اسلامی عبادت ہے، جسے محض ایک رسم کہہ کر رد کرنا قرآن و سنت کے پورے نظام سے بغاوت کے مترادف ہے۔
ابواب
1 جلدکوئی ابواب نہیں

