More Books
کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
موجودہ دور میں جب بھی کسی مسلم معاشرے یا خاص طور پر مسلمانوں کے اپنے ملک میں اسلامی قانون اور شریعت کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے بے شمار سوالات اور اعتراضات کی ایک طویل فہرست سامنے آ جاتی ہے، اور یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ یہ اعتراضات غیر مسلموں کی طرف سے نہیں بلکہ خود ہماری اپنی قوم کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید فکر رکھنے والے مسلمانوں کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ ان پڑھے لکھے افراد کے ذہنوں میں یہ شکوک و شبہات گردش کرتے ہیں کہ کیا صدیوں پرانا اسلامی قانون آج کے اس جدید اور ترقی یافتہ دور کی پیچیدہ ریاستی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور کیا ایک مخصوص تاریخی دور میں نافذ کیے جانے والے قانون کو ہمیشہ کے لیے قابلِ عمل سمجھ لینا کوئی دانشمندی ہے۔ وہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ کیا اس مہذب اور روشن خیال سمجھے جانے والے دور میں چوری پر ہاتھ کاٹنے یا کوڑے مارنے جیسی سزائیں دوبارہ رائج کی جائیں گی جنہیں وہ اپنی کم علمی کی بنیاد پر وحشیانہ تصور کرتے ہیں، یا کیا غلامی کی وہ پرانی شکلیں دوبارہ زندہ ہو جائیں گی جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے ذہنوں میں یہ سوال بھی الجھن پیدا کرتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مسلمانوں کے مختلف فقہی مسالک موجود ہیں، وہاں عملی طور پر کس مکتبہ فکر کی فقہ کو ریاستی قانون کا درجہ دیا جائے گا، اور وہ غیر مسلم اقلیتیں جو اس ریاست میں آباد ہیں، وہ اپنے اوپر مسلمانوں کے مذہبی قوانین کے اطلاق کو کیونکر تسلیم کریں گی۔ ان تمام الجھنوں اور سوالات کا بنیادی سبب بیان کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ ان اعتراضات کی اصل وجہ اسلام کے ساتھ کوئی شعوری دشمنی یا عناد نہیں ہے، بلکہ اس کا حقیقی سبب وہ شدید ناواقفیت اور جہالت ہے جس کا شکار آج کا جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہو چکا ہے۔ یہ انسانی فطرت کا ایک بنیادی خاصہ ہے کہ انسان جس نظام، نظریے یا چیز سے ناواقف ہوتا ہے، اس کا نام سنتے ہی اس کے دل میں انجانے خوف، وسوسے اور طرح طرح کی غلط فہمیاں جنم لینے لگتی ہیں، اور دوری یا سطحی شناسائی انسان کے دل میں اپنائیت پیدا کرنے کے بجائے اکثر اوقات وحشت اور اجنبیت میں ہی اضافہ کرتی ہے۔ ملتِ اسلامیہ کی بدقسمتی کی اس طویل اور المناک داستان کا ایک انتہائی افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج محض ہمارے دشمن یا اغیار ہی نہیں بلکہ ہماری اپنی ہی صفوں میں موجود لوگ اپنے شاندار دین اور اپنے عظیم اسلاف کے چھوڑے ہوئے بے مثال اور گراں قدر علمی اور قانونی ترکے سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں اور اس سے خوفزدہ ہیں۔ مولانا اس زوال کے تاریخی اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اچانک اس پستی اور ذہنی غلامی تک نہیں پہنچ گئے ہیں، بلکہ اس کے پیچھے صدیوں پر محیط ایک مسلسل اور طویل انحطاط کارفرما ہے جس نے ہمیں آج اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ ماضی میں ایک طویل عرصے تک ہمارے ہاں تہذیب و تمدن کا فطری ارتقاء اور نئے علوم و فنون کی نشوونما کا عمل بری طرح معطل اور جمود کا شکار رہا، اور اس فکری و عملی جمود کے لازمی نتیجے کے طور پر امتِ مسلمہ پر ایک ہمہ گیر سیاسی زوال مسلط ہو گیا۔ اس زوال کے باعث دنیا بھر کی مسلمان قومیں اور ان کی ریاستیں یا تو براہِ راست مغربی اور غیر مسلم طاقتوں کے زیرِ تسلط آ کر غلام بن گئیں، اور اگر ان میں سے کچھ کو برائے نام آزادی یا خود مختاری حاصل بھی رہی تو اس کی حیثیت بھی ذہنی اور عملی غلامی سے کچھ کم نہ تھی، کیونکہ ان طویل شکستوں اور پسپائیوں کا گہرا اثر ان قوموں کے قلب و روح کی اتھاہ گہرائیوں تک سرایت کر چکا تھا اور ان کا احساسِ کمتری انہیں اپنے ہی ورثے سے دور کر رہا تھا۔ اس مایوس کن صورتحال میں جب کبھی مسلمانوں نے اپنے زوال سے نکلنے اور دوبارہ اٹھنے کا ارادہ کیا، تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو، خواہ وہ نوآبادیاتی نظام کے براہِ راست غلام ہوں یا بظاہر آزاد، بیداری اور ترقی کی صرف ایک ہی صورت اور راستہ دکھائی دیا، اور وہ یہ تھا کہ مغرب کی جدید مادی تہذیب و تمدن اور ان کے وضع کردہ جدید علوم کا سہارا لے کر اپنا وجود برقرار رکھا جائے۔ اس نازک موڑ پر ہمارے ان روایتی طبقات نے بھی قوم کو مایوس کیا جو دینی علوم کے امین اور حامل سمجھے جاتے تھے، کیونکہ وہ خود بھی اسی فکری انحطاط اور جمود کے مرض میں مبتلا ہو چکے تھے جس کا شکار پوری امت تھی۔ خالص دینی اور اسلامی بنیادوں پر کوئی ایسی طاقتور، زندگی بخش اور ہمہ گیر انقلاب انگیز تحریک برپا کرنا ان روایتی دینی طبقات کے بس میں نہ رہا تھا جو حالات کا دھارا بدل سکتی۔ ان کی اس کمزوری اور عدم رہنمائی سے مایوس ہو کر امت کے وہ باشعور اور بے چین طبقات جو کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے تھے، وہ مجبوراً دنیا کے اس مغربی نظامِ زندگی کی طرف متوجہ اور راغب ہو گئے جو اس وقت مادی لحاظ سے واضح طور پر غالب، کامیاب اور پرکشش نظر آ رہا تھا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس المیے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان جدید طبقات نے اپنے افکار کے بنیادی اصول بھی اغیار سے مستعار لیے، انہی کے وضع کردہ علوم کی تحصیل کی، انہی کے قائم کردہ تمدنی، سماجی اور ریاستی اداروں کا مکمل نقشہ اور خاکہ اپنایا، اور پوری طرح انہی کے نقشِ قدم کی پیروی شروع کر دی۔ اس فکری اور عملی انحراف کا نتیجہ یہ نکلا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دین کا حقیقی علم رکھنے والے طبقے کو عملی زندگی کے دھارے سے بالکل کاٹ کر ایک گوشے میں دھکیل دیا گیا، اور تمام مسلمان قوموں اور ریاستوں میں اقتدار، رہنمائی اور کارفرمائی کی اصل باگ ڈور اور تمام کلیدی طاقتیں انھی لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو گئیں جو اسلام کے حقیقی تصورِ دین سے یکسر ناواقف تھے اور جن کی فکری، ذہنی اور عملی تربیت مکمل طور پر مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھل چکی تھی۔ اس صورتحال کا سب سے بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ چند ایک مستثنیات کو چھوڑ کر دنیا کے قریباً تمام آزاد مسلم ممالک کی حکومتوں اور ریاستوں نے مغرب کی بے دین اور سیکولر ریاستوں کو اپنا حتمی نمونہ اور آئیڈیل بنا لیا۔ ان نام نہاد مسلم ریاستوں میں کہیں تو پوری کی پوری اسلامی شریعت کو سرکاری طور پر منسوخ کر دیا گیا، اور کہیں ان سیکولر اور لادینی حکومتوں کے ریاستی نظام میں مسلمانوں کے لیے صرف ان کے عائلی قوانین یعنی پرسنل لا کو اس حد تک اسلامی رہنے دیا گیا جو محض شادی بیاہ اور طلاق کے معاملات تک محدود تھا، گویا مسلمانوں کو ان کی اپنی ہی حکومتوں اور ان کے اپنے ہی وطن میں محض وہ محدود مذہبی رعایتیں اور حقوق دیے گئے جو ماضی کی حقیقی اسلامی حکومتوں میں غیر مسلم ذمیوں کو ان کے ذاتی معاملات کے لیے دیے جاتے تھے۔ ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ یہاں شریعت کی منسوخی کا یہ افسوسناک سلسلہ انگریزی دورِ تسلط میں بتدریج شروع ہوا، جہاں ابتدا میں ایک عرصے تک اسلامی شریعت کو ہی ملکی قانون کی حیثیت حاصل رہی اور چوروں کے ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں نافذ رہیں، مگر پھر انگریزوں نے ایک منظم سازش کے تحت اسلامی قوانین کو اپنے برطانوی قوانین سے بدلنا شروع کر دیا یہاں تک کہ انیسویں صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے پوری شریعت کو ریاستی قانون سے بے دخل کر دیا گیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انھی غیر مسلم استعماری طاقتوں کے نقشِ قدم پر وہ مسلم ممالک بھی اندھا دھند چل پڑے جو بظاہر آزاد تھے؛ جیسے مصر، ترکی اور البانیہ نے اپنے پورے قانونی، خاندانی اور ریاستی نظام کو مغربی طرز پر تبدیل کر کے قرآنی احکامات میں صریح تحریفات اور تبدیلیاں کیں، جبکہ افغانستان اور سعودی عرب جیسے ممالک میں اگرچہ قانون شریعت کا تھا مگر وہاں بھی اس کی اصل روح اور حرکیات مفقود ہو چکی تھیں۔ انھی مخصوص حالات کے تناظر میں جب برصغیر کے اس خطے کی بات کی جائے جسے آج ہم پاکستان کے نام سے جانتے ہیں، تو یہاں کا معاملہ دنیا کے دیگر تمام مسلم ممالک کی نسبت بالکل منفرد، جداگانہ اور خاص نوعیت کا حامل ہے۔ یہاں کے مسلمانوں نے ایک طویل عرصے تک ایک واضح اور دو ٹوک نظریے کی بنیاد پر ایک کٹھن اور صبر آزما جدوجہد کی ہے کہ ان کی اپنی ایک مستقل تہذیب ہے، ان کا اپنا ایک الگ اور کامل نظریہ حیات ہے اور ان کا اپنا ایک مخصوص اور جامع آئینِ زندگی ہے، اس لیے ان کے لیے مسلم اور غیر مسلم کی کوئی ایسی مشترکہ یا متحدہ قومیت ہرگز قابلِ قبول نہیں ہو سکتی جس کا نظامِ زندگی ان کے اپنے اسلامی آئینِ حیات سے متصادم یا مختلف ہو۔ اسی عظیم مقصد اور نصب العین کے حصول کے لیے ایک الگ آزاد خطہ زمین کا بھرپور مطالبہ کیا گیا جہاں مسلمان اپنے عقیدے اور آئین کے مطابق اپنے پورے نظامِ زندگی کو استوار کر سکیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ یاد دلاتے ہیں کہ اس عظیم مقصد کے لیے برصغیر کے مسلمانوں کو لاکھوں جانوں، بے پناہ مال و اسباب اور اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کی وہ بھاری قیمت ادا کرنی پڑی جس کی تاریخ میں نظیر ملنا مشکل ہے۔ اتنا سب کچھ قربان کر دینے اور اتنی عظیم قیمت چکانے کے بعد، اگر ہم اس حاصل کردہ خطہ زمین پر اپنا وہ مطلوبہ اسلامی آئین اور نظامِ حیات ہی نافذ نہ کر سکے جس کے لیے یہ ساری بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیاں دی گئی تھیں، تو دنیا میں ہم سے بڑھ کر خسارے میں رہنے والا، زیاں کار اور احمق کوئی دوسرا نہ ہوگا۔ اگر ہمیں اس نئے ملک میں بھی اسلامی آئین کے بجائے وہی مغربی لادینی اور سیکولر جمہوری دستور ہی مسلط کرنا تھا، اور اگر ہمیں اسلامی شریعت کے نورانی قوانین کی جگہ وہی پرانا تعزیراتِ ہند اور انگریز کا بنایا ہوا ضابطہ دیوانی ہی یہاں من و عن جاری رکھنا تھا، تو پھر آخر متحدہ ہندوستان میں ایسی کون سی برائی تھی کہ اتنے وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری برداشت کی جاتی اور اتنے شدید تنازعات اور لڑائی جھگڑوں سے گزر کر یہ پاکستان الگ کیا جاتا۔ لہٰذا، ہم بحیثیت ایک قوم اپنے خالقِ حقیقی، دنیا کی تمام مخلوق اور آنے والی تاریخ کے سامنے اس بات کے اخلاقی اور نظریاتی طور پر مکمل پابند اور جوابدہ ہو چکے ہیں کہ ہم یہاں خالص اسلامی آئین نافذ کریں، اور اب ہمارے لیے اپنے اس تاریخی اور ایمانی قول و قرار سے پیچھے ہٹنا یا کسی اور راستے کا انتخاب کرنا کسی بھی صورت ممکن یا جائز نہیں رہا۔ مولانا مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اسلامی قانون کے نفاذ کی راہ میں بظاہر نظر آنے والی عملی مشکلات دراصل کوئی حقیقی یا ناقابلِ عبور رکاوٹیں نہیں ہیں، بلکہ ان کے حل کے لیے مناسب تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔ اصل اور سب سے بڑی پیچیدگی صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمارے ریاستی اور انتظامی اداروں کو چلانے والے وہ جدید تعلیم یافتہ اور کارفرما دماغ، جن کی بھرپور ذہنی صلاحیتوں، فکری وژن اور عملی محنت کی اس عظیم الشان کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اشد ضرورت ہے، وہ خود ابھی تک اسلامی قانون کی حقانیت اور اس کی افادیت کے حوالے سے اندرونی طور پر مطمئن نہیں ہیں، اور ان کے اس گہرے عدم اطمینان کی بنیادی وجہ ان کی اسلامی شریعت کی اصل روح سے شدید ناواقفیت ہے۔ اس لیے موجودہ حالات میں سب سے اوّلین اور اہم ترین کام یہ ہے کہ اس اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کو نہایت واضح، مدلل اور عقلی طریقے سے یہ سمجھایا جائے کہ درحقیقت اسلامی قانون کس عظیم الشان اور جامع چیز کا نام ہے، اس کی اصل اور حقیقی روح اور اس کا فطری مزاج کیا ہے، اس کے اندر موجود وہ کون سے بنیادی عناصر اور قطعی احکامات ہیں جو تاقیامت مستقل اور ناقابلِ تغیر ہیں، اور اس مستقل پن میں انسانیت کی فلاح کا کون سا راز اور فائدہ پنہاں ہے؛ اور اس کے ساتھ ساتھ شریعت کا وہ کون سا وسیع حصہ ہے جو ہر دور کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ترقی پذیر رہنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور جو ہماری نت نئی بڑھتی ہوئی پیچیدہ تمدنی اور معاشرتی ضرورتوں کو انتہائی احسن طریقے سے پورا کر سکتا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ قانون دراصل اس وسیع تر اور بنیادی سوال کا ایک حتمی جواب ہوتا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر انسانی طرزِ عمل کو کیسا ہونا چاہیے، اور قانون کی تفہیم کے لیے اس پوری معاشرتی اسکیم کو سمجھنا ناگزیر ہے جس کے تحت وہ قانون وجود میں آتا ہے۔ اسلامی نظامِ زندگی اور اس کے قوانین کی اصل بنیاد اور اس کا حقیقی سرچشمہ وہ مقدس آسمانی کتاب ہے جس کا آخری اور کامل ترین ایڈیشن قرآنِ مجید کی صورت میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے پیش کیا گیا، اور اس کا دوسرا اہم ترین ماخذ اللہ کے وہ برگزیدہ رسول ہیں جنہوں نے اپنے اقوال اور عملی زندگی کے کامل نمونے سے اس الہیٰ کتاب کے منشا اور اس کی مراد کی بالکل درست اور بے عیب ترجمانی کی۔ ان دونوں عظیم اور ابدی ماخذوں نے کائنات اور انسانی زندگی کے حوالے سے جو بنیادی اور کائناتی نظریہ پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ پوری عظیم الشان کائنات جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں، دراصل خدائے واحد کی ایک مکمل اور ہمہ گیر حکومت ہے، جہاں انسان اپنی پیدائش سے لے کر اپنی موت تک طبعی اور فطری قوانین کے تحت مکمل طور پر اللہ کی پیدائشی رعیت ہے۔ البتہ، انسان کی زندگی کا وہ خاص اور محدود دائرہ اختیار جس میں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ارادے کے استعمال کی آزادی اور پسند کا حق عطا کر کے آزمائش میں ڈالا ہے، اس دائرے میں انسان کو مجبور نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے سامنے حق اور سچائی کو واضح کر کے یہ پرزور دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی، خوشی اور مکمل شعور کے ساتھ اللہ کی غیر مشروط حاکمیت اور اس کی بالادستی کو تسلیم کر لے، اور اپنی اس من گھڑت خود مختاری سے دستبردار ہو کر اپنی زندگی کو مکمل طور پر اللہ کے احکامات کے تابع کر دے، اور اسی شعوری اور رضاکارانہ اطاعت کا نام ہی دراصل اسلام ہے۔
ابواب
1 جلدکوئی ابواب نہیں

