Welcome to Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Or
Continue with Google
Light Mode
Shahdat e imam Hussain

مولانا مودودی کی کتاب

Shahdat e imam Hussain

شہادت امام حسین

سید ابوالاعلیٰ مودودی

قسم

کتاب

پڑھنے کا وقت

N/A

صفحات

14

ہر سال محرم الحرام کے مہینے میں دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان، جن میں شیعہ اور سنی دونوں مکاتب فکر کے لوگ شامل ہیں، انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہاد...

اپنا مطالعہ شروع کریں

پڑھنا شروع کریں

تعارف اور اولین سرخیوں سے آغاز کریں0%
0:000:00

Description

ہر سال محرم الحرام کے مہینے میں دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان، جن میں شیعہ اور سنی دونوں مکاتب فکر کے لوگ شامل ہیں، انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔ انسان فطری طور پر کسی مظلوم کی شہادت پر اور اس کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کی بنیاد پر غمگین ہوتا ہے، لیکن سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ اس عظیم سانحے کو محض ایک خاندانی سوگ یا ذاتی ہمدردی تک محدود کر دینا اس بے مثال قربانی کے اصل مقصد سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ تیرہ سو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس غم کے تازہ رہنے کی وجہ کوئی عام خاندانی یا ذاتی محبت نہیں ہے، بلکہ وہ عظیم اور آفاقی مقصد ہے جس کی خاطر امام عالی مقام نے اپنی جانِ عزیز اور اپنے خاندان کے معصوم بچوں تک کو قربان کر دیا۔ اگر یہ مظلومانہ شہادت کسی اعلیٰ اور عظیم مقصد کے لیے نہ ہوتی تو محض ذاتی تعلق کی بنیاد پر صدیوں تک اس کی یاد باقی نہ رہتی۔ خود امام عالی مقام کے نزدیک بھی محض ذاتی محبت کی اتنی اہمیت نہیں تھی جتنی اس اعلیٰ ہدف کی تھی جس کے لیے انہوں نے سب کچھ نچھاور کر دیا۔ لہٰذا اگر ہم اس عظیم مقصد کے لیے جدوجہد نہ کریں اور صرف گریہ و زاری یا قاتلوں پر لعن طعن تک محدود رہیں، تو ہم روزِ قیامت خدا، اس کے رسول یا خود امام سے کسی بھی اجر یا داد کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ اس عظیم مقصد اور تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا خروج کسی ذاتی اقتدار، تخت و تاج یا حکومت کے حصول کے لیے ہرگز نہیں تھا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور سے لے کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور تک پچاس برسوں میں اس پاکیزہ خاندان نے کبھی بھی اقتدار کے لیے جنگ و جدل اور خون ریزی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی دور اندیش اور بصیرت افروز نگاہیں اس وقت کے مسلم معاشرے اور اسلامی ریاست کے مزاج، روح اور نظام میں ایک ایسے خطرناک اور بنیادی تغیر کے آثار دیکھ رہی تھیں جسے ہر قیمت پر روکنا وہ اپنا اولین شرعی فریضہ سمجھتے تھے۔ یہ تبدیلی لوگوں کے دین بدلنے یا ریاستی قوانین کی تبدیلی کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئی تھی؛ عدالتوں میں اس وقت بھی قرآن و سنت ہی کے مطابق فیصلے ہو رہے تھے اور حکمران بھی خدا اور رسول کو مانتے تھے۔ بعض لوگ غلط فہمی کی بنا پر صرف یزید کے ذاتی برے کردار کو اصل خرابی سمجھتے ہیں، لیکن سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس تصور کو سختی سے رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر اسلامی ریاست کا نظام اپنی صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو محض ایک برے شخص کا برسرِ اقتدار آنا کوئی ایسا بڑا حادثہ نہیں ہے جو امام جیسی دانا، زیرک اور شریعت کی گہری سمجھ رکھنے والی ہستی کو اتنی بڑی قربانی دینے پر بے چین کر دے۔ تاریخ کے غائر مطالعے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور اس کی تخت نشینی دراصل اس خرابی کا نقطہ آغاز تھی جس نے اسلامی ریاست کے دستور، اس کے مزاج اور اس کے بنیادی مقصد کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ مولانا اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ اس تبدیلی کے تمام تباہ کن نتائج اس وقت مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوئے تھے، لیکن ایک صاحبِ نظر انسان یہ بخوبی جان سکتا تھا کہ ریاست کی گاڑی کا رخ اب صحیح پٹڑی سے ہٹ کر تباہی کے راستے کی طرف مڑ رہا ہے۔ اسی رخ کی تبدیلی کو روکنے کے لیے امام نے اپنی جان کی بازی لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس تغیر کی سنگینی کو ان بنیادی خصوصیات کے تقابل سے ہی سمجھا جا سکتا ہے جو خلفائے راشدین کے دور میں موجود تھیں اور بعد کی بادشاہتوں کے ادوار میں ناپید ہو گئیں۔ اسلامی ریاست کی سب سے پہلی اور بنیادی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں عملی طور پر مانا جاتا تھا کہ ملک اللہ کا ہے اور حکومت عوام کے معاملات میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہے۔ مگر انسانی بادشاہتوں کے آغاز سے خدا کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی دعووں تک محدود ہو گیا اور حکمران عوام کی جان و مال اور آبرو کے مطلق العنان مالک بن بیٹھے، جبکہ خدا کے قوانین کا اطلاق صرف غریب عوام تک محدود ہو گیا۔ اسلامی ریاست کا بنیادی مقصد زمین پر ان نیکیوں کو قائم کرنا اور فروغ دینا تھا جو اللہ کو پسند ہیں اور ان برائیوں کو مٹانا تھا جو اسے ناپسند ہیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ بادشاہت کے قیام کے بعد حکومتوں کا مقصد صرف ممالک کو فتح کرنا، خلقِ خدا کو زیر کرنا، ٹیکس وصول کرنا اور دنیاوی عیش و عشرت کا حصول بن کر رہ گیا۔ دین کی اشاعت، بھلائی کے کاموں اور علومِ اسلامی کی سرپرستی کے بجائے حکمرانوں کے درباروں سے برائیوں کو فروغ ملنے لگا، اور دین کا کام کرنے والے حق پرست بندے حکومتوں کے عتاب کا شکار رہنے لگے۔ اسلامی ریاست کی روح تقویٰ، خوفِ خدا اور پرہیزگاری پر مبنی تھی، جس کا سب سے بڑا نمونہ خود ریاست کا سربراہ ہوتا تھا۔ مگر بادشاہی دور کی راہ پر پڑتے ہی مسلم حکمرانوں نے قیصر و کسریٰ کے جابرانہ طور طریقے اور ٹھاٹھ باٹھ اپنا لیے۔ عدل کی جگہ ظلم و جبر نے لے لی، پرہیزگاری کی جگہ فسق و فجور اور عیش و عشرت کا دور دورہ ہو گیا، اور سیاست کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹ گیا۔ حاکم خدا سے ڈرنے کے بجائے اللہ کے بندوں کو اپنے جبر و استبداد سے ڈرانے لگے۔ اس خطرناک نظریاتی اور روحانی تغیر کے ساتھ ساتھ اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کو بھی بے دردی سے پامال کیا گیا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، دستورِ اسلامی کا پہلا اور اہم ترین سنگِ بنیاد یہ تھا کہ حکومت عوام کی آزادانہ رضامندی اور کھلے مشورے سے قائم ہو۔ کوئی شخص طاقت یا سازش سے اقتدار حاصل نہ کرے، اور بیعت اقتدار کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا سبب ہونی چاہیے۔ لیکن یزید کی ولی عہدی نے اس قاعدے کو الٹ کر خاندانوں کی موروثی بادشاہت کی وہ بنیاد رکھی جس کے بعد مسلمانوں سے انتخابی خلافت کا حق ہمیشہ کے لیے چھن گیا۔ اب طاقت کے زور پر اقتدار حاصل کیا جانے لگا اور بیعت جبر کا نتیجہ بن گئی۔ جبری بیعت سے انکار کرنے والوں پر بدترین ظلم ڈھائے گئے۔ دستور کا دوسرا بڑا اصول یہ تھا کہ حکومت کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوں اور مشورہ ان اہلِ علم اور متقی افراد سے لیا جائے جن پر عام لوگوں کو پورا اعتماد ہو۔ خلفائے راشدین نے پورے خلوص سے قوم کے بہترین، حق گو اور دیانت دار افراد کو اپنی شوریٰ میں شامل کیا۔ لیکن بادشاہی دور کے آغاز کے ساتھ ہی حکمران مطلق العنان ہو گئے۔ اب بادشاہوں کی کونسل میں متقی افراد کے بجائے خوشامدی درباری، شہزادے اور طاقتور فوجی کمانڈر شامل ہونے لگے، جو صرف ان کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ تیسرا عظیم اصولی انحراف عوام کی اظہارِ رائے کی آزادی کے خاتمے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسلام نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ہر مسلمان کا صرف حق ہی نہیں بلکہ فرض قرار دیا تھا۔ خلافتِ راشدہ میں ہر عام شخص کو یہ آزادی حاصل تھی کہ وہ وقت کے بڑے سے بڑے حکمران کو اس کی غلطی پر ٹوک سکے اور حق بات برملا کہہ سکے۔ لیکن ملوکیت اور بادشاہت کا تسلط ہوتے ہی ضمیروں پر پہرے بٹھا دیے گئے اور زبانوں پر تالے ڈال دیے گئے۔ یہ قاعدہ بن گیا کہ اگر زبان کھولو تو صرف حکمران کی تعریف میں، ورنہ خاموش رہو، اور اگر کوئی حق بولنے کی جرات کرے تو اسے قید و بند یا موت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس جابرانہ پالیسی نے مسلمانوں کے اندر سے جرات کو ختم کر کے انہیں پست ہمت، بزدل اور مصلحت پسند بنا دیا۔ چوتھا اصول خلیفہ اور حکومت کا خدا اور خلق دونوں کے سامنے جوابدہ ہونا تھا۔ خلفائے راشدین دن رات عوام کے درمیان بغیر کسی حفاظتی دستے کے موجود رہتے اور ہر لمحہ حساب دینے کے لیے تیار رہتے تھے۔ مگر بادشاہی دور آتے ہی جوابدہی کا تصور ختم ہو گیا؛ حکمران فاتحین کا روپ دھار کر محلات اور قلعوں میں بند ہو گئے، اور عام لوگوں کی ان تک رسائی ناممکن ہو گئی۔ پانچواں اور انتہائی حساس اصولی انحراف بیت المال کے خرچ کے متعلق تھا۔ مولانا واضح کرتے ہیں کہ بیت المال کا خزانہ اللہ کا مال اور مسلمانوں کی امانت تصور کیا جاتا تھا، جس میں کوئی بھی شے حق کی راہ کے سوا نہ آ سکتی تھی اور نہ جا سکتی تھی۔ خلیفہ کا اس خزانے میں صرف اتنا ہی حق تھا جتنا ایک یتیم کے مال میں اس کے سرپرست کا ہوتا ہے، اور وہ اس کی ایک ایک پائی کا حساب دینے کا پابند تھا۔ مگر جب نظام بادشاہت میں تبدیل ہوا تو حکمرانوں نے قوم کے اس امانتی خزانے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ لیا اور اسے اپنی شاہانہ زندگی اور ذاتی مفادات پر بے دریغ لٹانا شروع کر دیا۔ یہ وہ تمام بھیانک تغیرات، دستوری انحرافات اور اخلاقی زوال تھے جن کی بنیادیں یزید کی ولی عہدی اور تخت نشینی کے ساتھ رکھی جا رہی تھیں۔ انھی خرابیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے، دین کی اصل روح کو بچانے، اقتدار کی منتقلی کے شورائی نظام کو دوبارہ زندہ کرنے اور مسلم معاشرے کو ظلم و استبداد کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیے امام حسین رضی اللہ عنہ نے وہ عظیم اور بے مثال قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک تمام حق پرستوں کے لیے ابدی مشعلِ راہ بن گئی۔ ان کا خروج اور شہادت دراصل تاریخِ انسانی میں اس عزم کا سب سے بڑا اعلان ہے کہ ایک سچا مسلمان اپنا سب کچھ لٹا سکتا ہے لیکن اللہ کی زمین پر اس کے دین اور اس کے نظام کی پامالی کو کبھی بھی خاموشی سے برداشت نہیں کر سکتا۔

Reading Guide

شہادت امام حسین – Full Chapters & Sections Online Online

Book

شہادت امام حسین

1

What شہادت امام حسین Teaches

  • Learn the main ideas and how they connect to daily Islamic life.
  • Use the structure to study step by step.
2

Browse Chapters and Sections in this Book

  • Pick any chapter to start reading.
  • Every section is organized for quick learning.
3

Read Chapters with Clear Islamic Explanation

  • Clear explanation makes learning simple.
  • Read the relevant headings as you go.
4

Key Points in Each Book Section

  • Each heading highlights the most important parts.
  • Use it for revision and focused study.
5

Bookmark and Continue Reading Your Selected Section

  • Save your place so you can continue reading anytime.
  • Use bookmarks to return to the same heading.