Welcome to Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Or
Continue with Google
Light Mode
Islami Nazm-e-Maeshat Ke Usool Aur Maqasid

مولانا مودودی کی کتاب

Islami Nazm-e-Maeshat Ke Usool Aur Maqasid

اسلامی نظمِ معیشت کے اُصول اور مقاصد

سید ابوالاعلیٰ مودودی

قسم

کتاب

پڑھنے کا وقت

N/A

صفحات

21

معاشی انصاف اور دولت کی گردش کو منظم کرنے کے الٰہی قواعد۔

اپنا مطالعہ شروع کریں

پڑھنا شروع کریں

تعارف اور اولین سرخیوں سے آغاز کریں0%

Description

زیرِ مطالعہ متن دراصل ایک نہایت فکر انگیز اور بصیرت افروز خطاب پر مبنی ہے جس میں **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے اسلامی نظمِ معیشت کے بنیادی اصولوں اور اس کے اعلیٰ و ارفع مقاصد پر نہایت جامع اور مفصل روشنی ڈالی ہے۔ اس گفتگو کا بنیادی محور یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام کس طرح انسانی زندگی کے دیگر پہلوؤں کی طرح معاشی معاملات میں بھی ایک مکمل، متوازن اور ہمہ گیر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس ضمن میں **مولانا** نے سب سے پہلے اس اہم سوال کا جواب دیا ہے کہ کیا اسلام کوئی باقاعدہ معاشی نظام تجویز کرتا ہے یا نہیں۔ ان کے نزدیک اسلام یقیناً ایک بہترین معاشی نظام عطا کرتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس نے ہر دور کی تمام جزوی اور فروعی تفصیلات کو ہمیشہ کے لیے منجمد کر دیا ہو۔ اس کے برعکس، **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلام نے معاشی زندگی کے لیے کچھ ابدی اور بنیادی اصول یا حدودِ اربعہ مقرر کر دیے ہیں۔ ان مقررہ حدود کے اندر رہتے ہوئے ہر دور کے انسانوں اور ماہرین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مخصوص حالات، تقاضوں اور ضروریات کے مطابق معاشی احکامات کی جزوی تفصیلات خود طے کریں۔ ماضی میں ہمارے عظیم فقہاء نے بھی اسی لچک دار مگر اصولی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے ادوار کے لیے معاشی قوانین بڑی تفصیل سے مرتب کیے تھے۔ آج کے جدید دور میں بھی مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نئے معاشی مسائل کا حل تلاش کریں، لیکن یہ حل لازمی طور پر انہی بنیادی اور اٹل اصولوں سے ماخوذ ہونا چاہیے جن کی نشاندہی **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے اس خطاب میں کی ہے، اور ان حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے جو شریعت نے ہمیشہ کے لیے متعین کر دی ہیں۔ اسلامی نظامِ معیشت کے اصولوں کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے ان مقاصد کو جاننا انتہائی ضروری ہے جن کے حصول کو اس نظام میں اولین ترجیح دی گئی ہے۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم ترین مقصد انسانی آزادی کا تحفظ ہے۔ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام فرد کی آزادی کو بے پناہ اہمیت دیتا ہے کیونکہ اسلامی عقیدے کے مطابق آخرت میں ہر انسان کو اپنے اعمال کا انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے۔ اس انفرادی جواب دہی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان کو دنیا میں اپنی شخصیت کی تعمیر، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور اپنی مرضی کے مطابق جائز راستوں کا انتخاب کرنے کی زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل ہو۔ معاشی آزادی کے بغیر انسان کی اخلاقی اور سیاسی آزادی کا تصور بھی محال اور ناممکن ہے۔ جو شخص اپنی روزی روٹی اور معاش کے لیے کسی دوسرے فرد، ادارے یا ریاست کا مکمل طور پر محتاج ہو، وہ کبھی بھی آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کر سکتا اور نہ ہی حق کی راہ پر دلیری سے چل سکتا ہے۔ اسی لیے **مولانا** کے مطابق، اسلام ایک ایسا نظامِ معیشت پیش کرتا ہے جس میں فرد کو روزگار کمانے کی بھرپور آزادی حاصل ہو اور اس پر صرف اتنی ہی پابندیاں عائد کی جائیں جو وسیع تر انسانی فلاح اور معاشرتی بہبود کے لیے ناگزیر ہوں۔ اسی طرح سیاسی میدان میں بھی اسلام جبر اور مطلق العنانی کی بجائے شوریٰ اور آزادیِ رائے پر مبنی ایسا نظام چاہتا ہے جہاں حکومت عوام کی مرضی سے بنے، عوام اسے بدلنے کا اختیار رکھتے ہوں، اور کوئی ایسا جابرانہ نظام مسلط نہ ہو جس میں انسانی شخصیت کی نشوونما ٹھٹھر کر رہ جائے۔ دوسرا بڑا اور اہم مقصد جس کی طرف **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے نہایت باریک بینی سے توجہ دلائی ہے، وہ انسان کی اخلاقی نشوونما اور اس کا باطنی تزکیہ ہے۔ اسلام معاشی انصاف کے قیام کے لیے محض ریاستی قوانین اور طاقت کے زور پر انحصار نہیں کرتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ معاشرے کے اجتماعی نظام میں فرد کو اختیاری حسنِ عمل کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں تاکہ فیاضی، ہمدردی، احسان اور دیگر اخلاقی فضائل پروان چڑھ سکیں۔ اگر ریاست ہر معاشی عمل کو قانون کے ذریعے جبر سے کنٹرول کر لے گی اور انسان کو اس طرح باندھ دے گی کہ اس کے پاس اپنی مرضی سے نیکی کرنے کا کوئی موقع باقی نہ رہے، تو اخلاقی ارتقاء کا عمل رک جائے گا۔ اس لیے **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** کے نزدیک اسلام کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایمان، عبادات، تعلیم اور اخلاقی تربیت کے ذریعے افراد کے دلوں میں ایک مضبوط اخلاقی حس بیدار کی جائے تاکہ وہ خود بخود عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں۔ جب اندرونی اصلاح اور معاشرتی دباؤ سے کام نہ چلے، صرف اسی صورت میں ریاست کو قانونی طاقت استعمال کرنے کا حق دیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں ظلم کا سدِ باب کیا جا سکے۔ اسلامی معیشت کا تیسرا بنیادی مقصد انسانیت کی وحدت اور اخوت کو فروغ دینا اور تفرقہ و طبقاتی تصادم کی بیخ کنی کرنا ہے۔ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** اس تاریخی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ دنیا میں پائے جانے والے ظالمانہ معاشی طبقات دراصل مصنوعی اور استحصالی ہیں۔ خواہ وہ برہمنیت کے پیدا کردہ طبقات ہوں، جاگیرداری نظام کے، یا مغربی سرمایہ داری نظام کے، اسلام نہ تو خود ایسے استحصالی طبقات پیدا کرتا ہے اور نہ ہی انہیں باقی رہنے دیتا ہے۔ البتہ، قدرتی طور پر انسانوں کی ذہنی و جسمانی قابلیتوں اور حالات میں جو فرق پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کچھ فطری طبقات وجود میں آتے ہیں، اسلام اسے تسلیم کرتا ہے۔ لیکن وہ ان فطری طبقات کو ایک دوسرے سے لڑانے یا طبقاتی جنگ چھیڑنے کے بجائے، ان کے درمیان ہمدردی، باہمی تعاون اور مواقع کی یکسانیت کے ذریعے بہترین ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ **مولانا** بیان کرتے ہیں کہ اسلام اپنے نظامِ معیشت کے ذریعے ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جن میں یہ طبقات فطری اور پرامن طریقے سے تحلیل اور تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اور کوئی ایک طبقہ دوسرے کا استحصال نہیں کر پاتا۔ ان اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول کے لیے اسلام جو معاشی قواعد و ضوابط مقرر کرتا ہے، ان میں شخصی ملکیت کا حق نہایت بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** کے مطابق، اسلام کچھ مخصوص حدود کے اندر فرد کو جائیداد اور دولت رکھنے کا مکمل اثباتی حق دیتا ہے۔ اسلام ذرائعِ پیداوار، مثلاً زمین، کارخانے یا مشینیں رکھنے، اور اشیائے صرف کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ ایک مسلمان جس طرح ذاتی استعمال کی اشیاء، کپڑے اور برتن کا مالک ہو سکتا ہے، اسی طرح وہ جائز طریقے سے حاصل کردہ فیکٹری یا زرعی زمین کا بھی مالک بن سکتا ہے۔ محنت سے کمائی ہوئی دولت اور وراثت میں ملنے والی دولت کے درمیان بھی اصولاً کوئی امتیاز نہیں برتا گیا۔ **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نہایت وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ اسلام صرف اس بنیاد پر فرق کرتا ہے کہ دولت کمانے کے ذرائع حلال ہیں یا حرام۔ اگر شخصی ملکیت کا یہ حق انسان سے چھین لیا جائے اور سب کچھ ریاست یا اجتماعیت کی تحویل میں دے دیا جائے، تو فرد کی معاشی اور انفرادی آزادی مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جاتی ہے، کیونکہ پھر تمام افراد وسائل پر قابض ریاستی ادارے کے محض ملازم بن کر رہ جاتے ہیں۔ ملکیت کے اس حق کے ساتھ، اسلامی نظامِ معیشت کا ایک اور سنہرا اور بے مثال اصول یہ ہے کہ وہ دولت کی بالکل مساوی اور مشینی تقسیم کے بجائے منصفانہ تقسیم کا علمبردار ہے۔ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** اس بات پر مضبوط عقلی دلائل دیتے ہیں کہ کائنات کے کسی بھی طبعی شعبے میں مکمل مساوات نہیں پائی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو عقل، صحت، یادداشت، حسن، طاقت اور پیدائشی حالات کے اعتبار سے یکساں نہیں بنایا۔ جب ان تمام فطری چیزوں میں برابری نہیں ہے، تو پھر معاشی ذرائع اور پیداوار کی مساوی تقسیم ایک بالکل غیر فطری، مصنوعی اور ناممکن عمل ہے جسے اگر زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ لازماً ناکام ہوگی اور تباہ کن نتائج پیدا کرے گی۔ اس کے بجائے، **مولانا** کہتے ہیں کہ اسلام دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتا ہے اور اس انصاف کے قیام کے لیے حلال اور حرام کا ایک نہایت شفاف اور جامع ضابطہ پیش کرتا ہے۔ اسلام ہر شخص کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ حلال طریقوں سے جتنی چاہے دولت کمائے۔ اگر کوئی شخص اپنی محنت، دیانتداری اور جائز ذرائع سے کروڑ پتی بھی بن جاتا ہے، تو اسلام اس کی راہ میں کوئی قدغن نہیں لگاتا کیونکہ معاشی جدوجہد کے لیے فرد کے اندر محرک کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ لیکن دوسری جانب، حرام اور استحصالی ذرائع، مثلاً چوری، رشوت، خیانت، غبن، ناپ تول میں کمی، فحاشی پھیلانے والے کاروبار، جسم فروشی، شراب کی تجارت، جوا، سٹہ اور بالخصوص سود کو اسلام نے سختی سے ممنوع قرار دیا ہے۔ ان حرام ذرائع سے کمائی گئی ایک پائی بھی فرد کی جائز ملکیت تصور نہیں ہوتی، اور اسلامی قانون ایسی کمائی کو ضبط کرنے اور مجرم کو سزا دینے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ دولت کمانے کے بعد، اس کے خرچ اور استعمال پر بھی اسلام نے ایسی حکیمانہ اور دور اندیش پابندیاں عائد کی ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کی بقاء کے لیے ناگزیر ہیں۔ **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** واضح کرتے ہیں کہ حلال دولت کمانے کے بعد بھی کوئی شخص اسے مادر پدر آزاد ہو کر عیاشی، شراب نوشی، جوئے یا سونے چاندی کے برتنوں جیسی خلافِ اخلاق چیزوں پر اڑانے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کے ساتھ ہی، اسلام دولت کو تجوریوں میں بند کر کے رکھنے اور اسے معاشی گردش سے نکال لینے کا بھی سخت ترین مخالف ہے۔ قرآن مجید کی رو سے، جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے نوعِ انسانی کی فلاح کے لیے استعمال نہیں کرتے، انہیں جہنم کی آگ میں اسی دولت سے داغا جائے گا۔ جو دولت استعمال سے بچ جائے، اسے گردش میں لانا ضروری ہے، اور اسی رکی ہوئی دولت پر اسلام زکوٰۃ کا قانون نافذ کرتا ہے تاکہ معاشرے کے محروم طبقات اور اجتماعی خدمات کے لیے وسائل فراہم ہو سکیں۔ مزید برآں، **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے ذخیرہ اندوزی، احتکار اور ناجائز اجارہ داریوں کی بھی شدید مذمت کی ہے۔ اشیائے ضرورت کو جان بوجھ کر اس نیت سے روک لینا تاکہ بازار میں ان کی مصنوعی قلت پیدا ہو اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، ایک انتہائی سنگین اور حرام فعل ہے جو انسان کو تاجر سے گرا کر لٹیرا بنا دیتا ہے۔ اسلام مارکیٹ کو مسابقت کے لیے کھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ کسبِ معاش کے مواقع چند مخصوص خاندانوں یا طبقوں تک محدود نہ رہ جائیں۔ بچت کی گئی دولت کو اگر مزید سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا ہو تو وہ بھی قطعی طور پر صرف انہی طریقوں سے کی جا سکتی ہے جنہیں شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اور کسی بھی حرام طریقے کو اختیار کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ الغرض، یہ تفصیلی خاکہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلام کا معاشی نظام انسانیت کی مادی و روحانی فلاح کا واحد ضامن ہے۔

Reading Guide

اسلامی نظمِ معیشت کے اُصول اور مقاصد – Full Chapters & Sections Online

Book

اسلامی نظمِ معیشت کے اُصول اور مقاصد

1

What اسلامی نظمِ معیشت کے اُصول اور مقاصد Teaches

  • Learn the main ideas and how they connect to daily Islamic life.
  • Use the structure to study step by step.
2

Browse Chapters and Sections in this Book

  • Pick any chapter to start reading.
  • Every section is organized for quick learning.
3

Read Chapters with Clear Islamic Explanation

  • Clear explanation makes learning simple.
  • Read the relevant headings as you go.
4

Key Points in Each Book Section

  • Each heading highlights the most important parts.
  • Use it for revision and focused study.
5

Bookmark and Continue Reading Your Selected Section

  • Save your place so you can continue reading anytime.
  • Use bookmarks to return to the same heading.