Welcome to Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Or
Continue with Google
Light Mode
Tehreek-e-Islami Ki Akhlaqi Bunyadain

مولانا مودودی کی کتاب

Tehreek-e-Islami Ki Akhlaqi Bunyadain

تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں

سید ابوالاعلیٰ مودودی

قسم

کتاب

پڑھنے کا وقت

N/A

صفحات

40

تحریکی اور قومی سطح پر اخلاقی برتری شرطِ عروج اور کامیابی ہے۔

اپنا مطالعہ شروع کریں

پڑھنا شروع کریں

تعارف اور اولین سرخیوں سے آغاز کریں0%
0:000:00

Description

زیر مطالعہ تحریر میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکِ اسلامی کے حتمی مقاصد اور اس کی بنیادی جہتوں پر انتہائی جامع اور فکر انگیز انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ ان کے نزدیک اس شعوری جدوجہد کا آخری مقصود محض چند افراد کی انفرادی اصلاح نہیں ہے بلکہ درحقیقت دنیا میں ”انقلابِ امامت“ برپا کرنا ہے۔ اس تصور کی بھرپور وضاحت کرتے ہوئے مصنف بتاتے ہیں کہ جب تک دنیا کی قیادت، رہنمائی اور نظامِ حکومت بدکار، نافرمان اور خدا نا ترس لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر صالح، نیک اور خوفِ خدا رکھنے والے افراد کے ہاتھوں میں نہیں آتی، تب تک انسانیت کو کسی طور پر حقیقی فلاح، امن اور سلامتی نصیب نہیں ہو سکتی۔ اس عظیم اور پاکیزہ مقصد کے حصول کے لیے کی جانے والی ہر شعوری کوشش دراصل دنیا اور آخرت میں رضائے الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ ہے۔ مولانا اس بات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ آج کا عام مسلمان اس مقصد کی اصل شرعی اور دینی اہمیت سے مکمل طور پر غافل ہو چکا ہے اور اس نے اسے محض ایک وقتی سیاسی ہدف سمجھ لیا ہے۔ دوسری جانب غیر مسلم حضرات بھی اپنے تعصب اور حقائق سے ناواقفیت کی بنا پر اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نوعِ انسانی کے تمام مصائب، پریشانیوں اور موجودہ عالمی بگاڑ کی اصل جڑ درحقیقت فاسقوں اور فاجروں کی قیادت ہی ہے۔ آج دنیا بھر میں جو بے پناہ ظلم، طغیانی، ہمہ گیر اخلاقی انحطاط اور معاشی و سماجی استحصال پھیلا ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ دنیا میں نیک اور شریف لوگوں کی کمی واقع ہو گئی ہے، بلکہ اس کی اصل اور واحد وجہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام تر معاملات، قدرتی وسائل، طاقت کے مراکز اور جدید علوم کی باگ ڈور ان لوگوں کے قبضے میں ہے جو خدا سے مکمل طور پر بغاوت کر چکے ہیں اور مادیت پرستی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق ہیں۔ اس ابتر صورتحال کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص واقعی دنیا میں امن، سلامتی اور اخلاقیات کا بول بالا دیکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے صرف نیکی کی تلقین کرنا یا وعظ و نصیحت کی مجالس سجا لینا کافی نہیں ہے۔ یہ اس کا بنیادی اور اوّلین فرض ہے کہ وہ معاشرے میں موجود تمام صالح عناصر کو یکجا کر کے ایک ایسی مضبوط اور ناقابلِ شکست اجتماعی قوت تیار کرے جو فاسقوں اور ظالموں سے تمدن کی قیادت چھین کر نظامِ امامت کو درست کر سکے۔ انسانی معاملات کے بننے اور بگڑنے کا تمام تر انحصار اسی ایک نازک نکتے پر ہے کہ زمامِ کار حقیقتاً کس کے ہاتھ میں ہے۔ اس اہم نکتے کو عام ذہنوں کے لیے قابلِ فہم بنانے کی غرض سے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت شاندار مثال پیش کرتے ہیں کہ جس طرح کسی گاڑی کا رخ اور اس کی منزل پوری طرح اس کے ڈرائیور کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے، اور گاڑی میں بیٹھے ہوئے تمام مسافروں کو خواستہ و ناخواستہ اسی سمت سفر کرنا پڑتا ہے، بالکل اسی طرح انسانی تمدن کی اجتماعی گاڑی بھی اسی سمت سفر کرتی ہے جس طرف اس کے قائدین اور حکمران اسے لے جانا چاہتے ہیں۔ جب زمین کے تمام وسائل، طاقت کے مراکز، قانون سازی کے ادارے اور تعلیم و ابلاغ کے ذرائع خدا فراموش لوگوں کے قبضے میں ہوں گے، تو وہ پورے معاشرے کے افکار کو اپنے بنائے ہوئے نظریات اور مفادات کے سانچے میں ڈھال کر رکھ دیں گے۔ اس کے برعکس اگر قیادت صالح اور خدا ترس لوگوں کے پاس ہو تو معاشرے کا مجموعی نظام خود بخود نیکی اور بھلائی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے، اور برے لوگ بھی یا تو اچھے بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا کم از کم ان کی برائیوں کو پنپنے کا موقع نہیں ملتا۔ لیکن جب اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو فسق و فجور میں مبتلا ہیں، تو سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک، زندگی کا سارا نظام، معیشت، سیاست، اور معاشرت خود بخود خدا سے بغاوت اور ظلم کی ڈگر پر چل پڑتی ہے۔ ایسے فاسد اور جابر نظام میں برائیاں خوب پھلتی پھولتی ہیں جبکہ بھلائیوں کا گلا بے دردی سے گھونٹ دیا جاتا ہے۔ مصنف اس کیفیت کو ایک بڑے ہجوم کی مثال سے واضح کرتے ہیں کہ جس طرح کسی مجمع کے رخ پر چلنے میں انسان کو کوئی زور نہیں لگانا پڑتا اور وہ خود بخود بہتا چلا جاتا ہے، لیکن اگر وہ مخالف سمت میں چلنا چاہے تو اسے اپنی پوری طاقت صرف کرنی پڑتی ہے، بعینہٖ جب کوئی معاشرہ غیر صالح قیادت کے زیرِ اثر کفر و فسق کی راہوں پر چل پڑتا ہے تو عام انسانوں کے لیے برائی کے راستے پر چلنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے، جبکہ نیکی پر قائم رہنے والوں کو قدم قدم پر شدید ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مولانا بتاتے ہیں کہ پچھلے سو سالوں کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ کس طرح زمامِ کار بدلنے سے لوگوں کے نظریات، تہذیب، اخلاقی پیمانے اور سوچنے کے انداز مکمل طور پر تبدیل ہو گئے، یہاں تک کہ بڑے بڑے مقدس مذہبی پیشواؤں کی نسلیں بھی وقت کے اس بے رحم دھارے میں بہہ گئیں۔ دینِ اسلام کی روشنی میں اس اہم مسئلے کی مرکزیت پر زور دیتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا دین سختی سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ زمین پر بسنے والے تمام انسان بالکلیہ صرف اور صرف اللہ کی بندگی کریں اور اسی کا قانون پوری انسانی زندگی پر نافذ العمل ہو۔ دینِ حق کا یہ عظیم الشان مقصد کبھی بھی اس طرح پورا نہیں ہو سکتا کہ قیادت مکمل طور پر کفر کے ہاتھ میں ہو اور مسلمان محض ان کی دی ہوئی چھوٹی موٹی رعایتوں پر خوش ہو کر اپنی ذاتی عبادات میں مگن رہیں۔ اسلام کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ تمام اہلِ خیر اپنی جان و مال کی بازی لگا کر ایک ایسا نظامِ حق قائم کرنے کی جدوجہد کریں جس میں امامت اور رہنمائی کا منصب مومنین صالحین کے پاس ہو۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر قرآن و حدیث میں اجتماعیت اور التزامِ جماعت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے اور جماعت سے نکلنے والے کے خلاف قتال کا حکم کیوں ہے؟ اس کی واحد اور منطقی وجہ یہی ہے کہ دین کا حقیقی مقصود ایک صالح نظام کا قیام ہے اور یہ مقصد اجتماعی طاقت کے بغیر ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ جہاد کی اہمیت بھی اسی پس منظر میں واضح ہوتی ہے کہ یہ دراصل نظامِ حق کے قیام کی ہی ایک عملی کوشش ہے۔ ایک سچا اور کھرا مومن کبھی بھی نظامِ باطل کے تسلط پر راضی نہیں ہو سکتا۔ اگر پوری دنیا میں ایک مومن تنہا بھی رہ جائے تب بھی اس کا فرض ہے کہ وہ صراطِ مستقیم پر کھڑے ہو کر حق کی آواز بلند کرتا رہے اور باطل کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مسلسل سینہ سپر رہے۔ اس انقلابی جدوجہد میں کامیابی کے اصول و ضوابط پر تفصیلی بات کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ محض نیک تمناؤں، پاکیزہ خواہشات اور دعاؤں کے سہارے دنیا کا کوئی بھی عظیم مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک مخصوص قانون اور ضابطے جسے سنت اللہ کہا جاتا ہے پر قائم کیا ہے، اور اس دنیا میں کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ان ٹھوس قوانین کی پوری طرح پاسداری کی جائے۔ مولانا اس حقیقت کو زراعت کی انتہائی سادہ مثال سے سمجھاتے ہیں کہ ایک کسان چاہے کتنا ہی بزرگ اور تہجد گزار کیوں نہ ہو، اس کے کھیت اس وقت تک فصل نہیں دے سکتے جب تک وہ زراعت کے طبعی قوانین کی پابندی ملحوظ نہ رکھے۔ بالکل اسی طرح نظامِ امامت کا انقلاب برپا کرنے کے لیے بھی ان تمام شرائط کو پورا کرنا ناگزیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے امامت ملنے اور چھننے کے لیے مقرر کر رکھی ہیں۔ انسان کی ہستی کا گہرا تجزیہ کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ انسان دراصل دو مختلف حیثیتوں کا مجموعہ ہے۔ ایک اس کا طبعی اور حیوانی وجود ہے جو مادی اور طبعی قوانین کا پابند ہے، جبکہ دوسری حیثیت اس کا اعلیٰ اخلاقی وجود ہے جو مادی قوتوں پر حاکم ہے اور ان سے کام لیتا ہے۔ اگرچہ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مادی وسائل، آلات اور طبعی حالات کی موافقت بھی انتہائی ضروری ہے، لیکن انسان کی اصل کامیابی، ناکامی اور اس کے عروج و زوال کا حتمی فیصلہ مادیت پر نہیں بلکہ اس کی اخلاقی طاقت پر ہی منحصر ہوتا ہے۔ اخلاقیات کی اس فیصلہ کن اور کلیدی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کا اصل جوہر اس کی جسمانیت یا طبعی ضروریات نہیں بلکہ اس کی اخلاقیات ہیں۔ یہی وہ اخلاقی اختیار اور ذمہ داری کا احساس ہے جو اسے دنیا کی دیگر موجودات سے ممتاز کر کے زمین پر خدا کا حقیقی خلیفہ بناتا ہے۔ جب انسانیت کی اصل بنیاد ہی اخلاق ہے تو منطقی طور پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ انسانی معاشروں کے بننے، سنورنے اور بگڑنے کا اصل فیصلہ بھی اخلاقی قوانین ہی صادر کرتے ہیں۔ مصنف انسانی اخلاقیات کو دو بڑے اور واضح حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: ایک بنیادی انسانی اخلاقیات اور دوسرے اسلامی اخلاقیات۔ بنیادی انسانی اخلاقیات سے مراد وہ بنیادی اور ناگزیر اوصاف ہیں جو اس دنیا میں کسی بھی انسان، گروہ یا قوم کی کامیابی کے لیے بہرحال شرطِ لازم ہیں، خواہ وہ مومن ہو یا کافر، حق کے لیے کام کر رہا ہو یا باطل کے لیے۔ اگر کوئی قوم ایمان سے خالی بھی ہو لیکن اس کے افراد میں ہمت، حوصلہ، تنظیم، محنت اور استقامت جیسے بنیادی انسانی اخلاق بدرجہ اتم موجود ہوں تو وہ دنیاوی معاملات میں یقیناً ان لوگوں پر غالب آ جائیں گے جو ان خصوصیات سے عاری ہوں۔ غرض یہ کہ تحریکِ اسلامی کو اپنے عظیم الشان نصب العین کے حصول، امامتِ صالحہ کے قیام اور نظامِ باطل کے مکمل خاتمے کے لیے محض روایتی عبادات پر اکتفا کرنے کے بجائے اسباب کی اس دنیا میں مضبوط اخلاقی اور تنظیمی قوت پیدا کرنی ہو گی، تاکہ باطل اور فاسد قوتوں سے زمامِ کار چھین کر ایک ایسا منصفانہ نظام قائم کیا جا سکے جو واقعتاً اللہ کی مرضی کے تابع ہو۔

Reading Guide

تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں – Full Chapters & Sections Online

Book

تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں

1

What تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں Teaches

  • Learn the main ideas and how they connect to daily Islamic life.
  • Use the structure to study step by step.
2

Browse Chapters and Sections in this Book

  • Pick any chapter to start reading.
  • Every section is organized for quick learning.
3

Read Chapters with Clear Islamic Explanation

  • Clear explanation makes learning simple.
  • Read the relevant headings as you go.
4

Key Points in Each Book Section

  • Each heading highlights the most important parts.
  • Use it for revision and focused study.
5

Bookmark and Continue Reading Your Selected Section

  • Save your place so you can continue reading anytime.
  • Use bookmarks to return to the same heading.