More Books
کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
موجودہ دور میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جن نت نئے فتنوں نے سر اٹھایا ہے، ان میں سے ایک انتہائی خطرناک اور گمراہ کن فتنہ نئی اور جھوٹی نبوت کا دعویٰ ہے۔ اس فتنے نے گزشتہ کئی دہائیوں سے امت مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کو شدید گمراہی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس کتابچہ کے آغاز میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو نہایت صراحت کے ساتھ واضح کیا ہے کہ اس قسم کے فتنے دراصل مسلمانوں کی اپنے دین، تعلیمات اور بنیادی عقائد سے دوری اور شدید جہالت کی بنیاد پر پروان چڑھتے ہیں۔ اگر امت مسلمہ اپنے دین سے غافل نہ ہوتی اور عقیدہ ختم نبوت کی حساسیت، اہمیت اور اس کی اصل حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوتی، تو کسی بھی جھوٹے دعویدار کے لیے یہ کسی طور پر ممکن ہی نہ تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کر کے ایک مسلمان قوم کے اندر کسی بھی درجے میں کامیابی یا مقبولیت حاصل کر سکے۔ آج بھی اس گمراہی اور فتنے کا قلع قمع کرنے کا سب سے موثر، صحیح اور بہترین علاج یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عوام الناس کو اس نازک عقیدے کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے اور ان کے ذہنوں میں باطل قوتوں کی طرف سے پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات کا علم اور معقول دلائل کی روشنی میں بھرپور ازالہ کیا جائے۔ اسی عظیم مقصد اور درد کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ تحریر مرتب کی گئی ہے تاکہ حق کے متلاشی افراد پر حق پوری طرح واضح ہو جائے اور جو لوگ ابھی تک اس گمراہی سے بچے ہوئے ہیں، وہ مستقبل میں بھی اس سے مکمل طور پر محفوظ رہ سکیں۔ عقیدہ ختم نبوت کی سب سے بڑی، مضبوط اور قطعی دلیل قرآن مجید کی سورہ الاحزاب کی آیت نمبر چالیس ہے جس میں اللہ رب العزت نے دو ٹوک اور واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس آیت مبارکہ کے نزول کے تاریخی پس منظر کو انتہائی خوبصورتی اور گہرائی سے بیان کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس میں ان کفار اور منافقین کے طعن و تشنیع، بہتان اور افترا پردازی کا مسکت جواب دیا گیا ہے جو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح مبارک پر طرح طرح کے بے جا اعتراضات کر رہے تھے۔ ان کا بے بنیاد اعتراض یہ تھا کہ چونکہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے تھے، اس لیے ان کے طلاق دینے کے بعد ان کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرنا شریعت اور رسم و رواج کے اعتبار سے ایک ناجائز عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسم جاہلیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے براہ راست اپنے نبی کو اس نکاح کا قطعی حکم دیا۔ چونکہ انبیاء کا بنیادی کام لوگوں کی باتوں اور طعنوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اور صرف اللہ سے ڈرنا اور اس کے احکامات کو بلا کم و کاست معاشرے میں نافذ کرنا ہوتا ہے، اس لیے اس جاہلانہ رسم کا خاتمہ انتہائی ضروری تھا۔ اسی تناظر اور پس منظر میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ مخالفین اور منافقین کے اعتراض کی جڑ کاٹنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرد کے حقیقی باپ نہیں ہیں، اس لیے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح پر حرمت کا وہ قانون سرے سے لاگو ہی نہیں ہوتا جو سگے بیٹے کے حوالے سے موجود ہے۔ اس کے بعد آیت مبارکہ میں لفظ "خاتم النبیین" استعمال کر کے اس بات پر ہمیشہ کے لیے مہر ثبت کر دی گئی کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی آنے والا نہیں ہے، اس لیے معاشرے کی اس غلط رسم کا مکمل اور حتمی خاتمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مبارک ہاتھوں سے ہونا ہر لحاظ سے ناگزیر تھا۔ اگر یہ کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں انجام نہ پاتا تو بعد میں کوئی اور نبی ایسا نہ تھا جو اس رسم کو توڑتا، اور نہ ہی کسی عام مصلح یا ولی کے عمل میں وہ تقدس، طاقت اور عالمگیر اثر و رسوخ ہو سکتا تھا جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اسے ایک دائمی سنت کا درجہ دے سکے۔ اللہ چونکہ ہر چیز کا کامل علم رکھنے والا ہے، اس لیے وہ خوب جانتا تھا کہ اس رسم کا خاتمہ آخری نبی ہی کے ذریعے کروانا کیوں اس قدر اہمیت کا حامل تھا۔ اس واضح، روشن اور صریح قرآنی اعلان کے باوجود، جھوٹی نبوت کے پیروکاروں نے قرآن مجید کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر ان کے من مانے اور باطل معنی نکالنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ مولانا نے ان تمام باطل تاویلات کا انتہائی سخت اور عقلی محاکمہ کیا ہے۔ منکرین ختم نبوت کا ایک گروہ لفظ "خاتم النبیین" کا مطلب "نبیوں کی مہر" لیتا ہے، یعنی ان کا باطل دعویٰ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے انبیاء آپ کی مہرِ تصدیق لگنے سے نبی بنیں گے۔ سیاق و سباق اور عقل کے لحاظ سے یہ تاویل انتہائی بے تکی، بے محل اور مقصودِ کلام کے قطعی خلاف ہے۔ اگر اس کا مطلب واقعی یہ لیا جائے کہ مزید انبیاء آتے رہیں گے، تو پھر منافقین کا یہ اعتراض اپنی جگہ جوں کا توں باقی رہتا ہے کہ اگر اس جاہلانہ رسم کو مٹانا اتنا ہی ضروری اور لازمی تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی مہر سے جو انبیاء آنے والے تھے، ان میں سے کوئی اسے مٹا دیتا، آپ کو خود یہ کام کرنے کی کیا حاجت تھی۔ اسی طرح بعض لوگ اس لفظ کے معنی "افضل النبیین" کرتے ہیں، جس سے بھی آیت کا بنیادی مقصد فوت ہو جاتا ہے اور مخالفین کا اعتراض دور نہیں ہوتا۔ عربی لغت اور محاورے کی رو سے بھی لفظ "خاتم" کے معنی کسی چیز پر مہر لگانے، اسے مکمل طور پر بند کرنے اور اس کے آخر تک پہنچ جانے کے ہی ہیں۔ مستند اور معتبر عربی لغات کے مطابق جب کسی برتن یا خط کو بند کر کے اس پر مہر لگائی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر آ سکتی ہے اور نہ ہی باہر کی کوئی چیز اس کے اندر جا سکتی ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ لغت کے ان تمام پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ دنیا کی کسی بھی زبان کا کوئی بھی قاعدہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ مجازی معنوں کو حقیقی معنوں پر ترجیح دی جائے اور اصل معنی کو ممنوع قرار دے دیا جائے۔ اگرچہ بعض اوقات انسانی کلام میں مبالغے کے طور پر کسی کو "خاتم الشعراء" یا "خاتم المفسرین" کہہ دیا جاتا ہے، لیکن انسان چونکہ عالم الغیب نہیں ہے اس لیے یہ صرف اس کے فن میں کمال کا اعتراف ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب اللہ رب العزت، جو عالم الغیب ہے اور کائنات کے ذرے ذرے کا علم رکھتا ہے، کسی کو "خاتم النبیین" قرار دے دے، تو اس کا دو ٹوک اور واحد مطلب یہی ہے کہ اب اس عظیم ہستی پر نبوت کی صفت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے اور اس کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید کی اس واضح نص اور ٹھوس لغوی دلائل کی بھرپور تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی کثیر اور مستند احادیث سے بھی ہوتی ہے جنہیں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے انتہائی جامعیت کے ساتھ اس مقام پر بیان کیا ہے۔ بخاری شریف کی ایک مستند حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاسی اور روحانی رہنمائی ان کے انبیاء کیا کرتے تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا بلکہ صرف خلفاء ہوں گے۔ اسی طرح ایک اور انتہائی خوبصورت تمثیلی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی مثال ایک ایسے حسین و جمیل محل کی سی ہے جس کے ایک کونے میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہو۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھوم کر حیران ہوتے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ میں ہی وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ اس بہترین مثال سے یہ بات سورج کی طرح روشن ہو جاتی ہے کہ نبوت کی عظیم الشان عمارت اب اپنی سو فیصد تکمیل کو پہنچ چکی ہے اور اس میں اب کسی اور اضافے کی قطعاً کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ احادیث کے اسی مبارک اور نورانی تسلسل کو بیان کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دیگر انبیاء پر چھ خاص اور منفرد فضیلتیں عطا فرمائی ہیں جن میں جامع کلام کی صلاحیت، رعب کے ذریعے نصرت، مال غنیمت کی حلت، پوری روئے زمین کا مسجد اور پاکیزگی کا ذریعہ بننا، پوری دنیا کی مخلوق کے لیے رسول بن کر آنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر انبیاء کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جانا شامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ رسالت اور نبوت مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے، اب میرے بعد نہ کوئی نیا رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے گرامی بھی بعینہٖ اسی عقیدے کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں آپ نے خود کو محمد، احمد، ماحی، حاشر اور عاقب قرار دیا ہے۔ حاشر اور عاقب کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ہستی جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو اور جس کے بعد سیدھا قیامت کا دن آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو، دجال کو اب تمہارے ہی اندر نکلنا ہے۔ ایک حدیث میں آپ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبوت نہیں سوائے اچھے اور سچے خوابوں کے۔ ان تمام قطعی، ناقابل تردید قرآنی، لغوی اور احادیث کے دلائل کا واضح اور حتمی پیغام یہی ہے کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیادی اساس ہے، جس کو سمجھنا، اس پر کامل یقین رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے۔
ابواب
1 جلدکوئی ابواب نہیں

