More Books
کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر تحریر میں اسلام میں یتیم پوتے کی وراثت کے حساس اور طویل عرصے سے اخبارات میں زیرِ بحث رہنے والے اس پیچیدہ مسئلے پر نہایت جامع، سیر حاصل اور مدلل گفتگو کی گئی ہے۔ جدید دور میں منکرین حدیث اور بعض تجدد پسند حلقوں کی جانب سے اس مخصوص مسئلے کو ایک جذباتی رنگ دے کر عوام الناس کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے تاکہ اس مسئلے کی آڑ میں اسلامی احکامات، فقہی اصولوں اور خاص طور پر احادیث کی حجیت کے متعلق اپنے گمراہ کن خیالات کو پھیلانے کا نادر موقع حاصل کیا جا سکے۔ اس پروپیگنڈے کی سنگینی اور اس کے پس پردہ کام کرنے والے کج فہم ذہن کو محسوس کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی آیات کی روشنی میں اس مسئلے کی مکمل اور دو ٹوک حقیقت واضح کی ہے۔ تاریخی اور فقہی حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مبارک دور سے لے کر آج تک امت مسلمہ کے تمام مستند مکاتب فکر اور عظیم فقہا، جن میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری، اہل حدیث اور شیعہ فقہا شامل ہیں، اس بات پر مکمل طور پر متفق رہے ہیں کہ دادا کی موجودگی میں اگر بیٹا وفات پا جائے تو یتیم پوتا براہ راست وراثت کا حق دار نہیں ہوتا۔ اگر اس متفقہ اور اجماعی مسئلے کو محض جذباتی بنیادوں پر قرآن کے خلاف قرار دے دیا جائے تو اس کا سیدھا اور خطرناک مطلب یہ نکلتا ہے کہ العیاذ باللہ امت کے تمام فقہا اور جلیل القدر علمائے کرام یا تو قرآن فہمی سے یکسر عاری تھے، یا پھر وہ سب کے سب جان بوجھ کر اللہ کی کتاب کی صریح خلاف ورزی پر اکٹھے ہو گئے تھے، جو کہ ایک ناممکن، لغو اور باطل خیال ہے۔ ماضی میں اسی منظم اور جذباتی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر سابق پنجاب اسمبلی میں چودھری محمد اقبال چیمہ صاحب کی جانب سے ایک باقاعدہ مسودہ قانون پیش کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد اسلامی قانونِ وراثت میں من مانی ترمیم کرنا تھا۔ حیرت انگیز طور پر اس غیر شرعی ترمیم کی تائید لاہور ہائی کورٹ کے ججوں، اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، ڈسٹرکٹ ججوں، سول ججوں، سرکاری محکموں کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدے داروں، وکیلوں اور میونسپل کمشنروں کی ایک کثیر تعداد نے کی تھی، اور بعد ازاں سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں عبدالرشید صاحب کی سربراہی میں قائم ہونے والے عائلی کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں اسی ترمیم کے حق میں رائے دی تھی۔ ان نازک حالات میں مولانا نے اس بات کی شدید علمی اور دینی ضرورت محسوس کی کہ عوام اور خواص کو اس مسئلے کی اصل شرعی اور قانونی حیثیت سے پوری طرح آگاہ کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی فکری گمراہی کا شکار نہ ہوں۔ قرآن مجید کے واضح احکامات اور اسلامی شریعت کی رو سے وراثت کے باب میں سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ وراثت کی تقسیم کا سوال کسی بھی انسان کی زندگی میں پیدا ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس حق کا آغاز اور نفاذ صرف اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص وفات پا جائے اور اپنے پیچھے کچھ مال، جائیداد یا ترکہ چھوڑ جائے۔ اس حوالے سے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے سورہ نساء کی مختلف آیات، بالخصوص آیت نمبر سات اور ایک سو چھہتر کا تفصیلی حوالہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ رب العزت نے مردوں اور عورتوں کے لیے اس مال میں حصے مقرر کیے ہیں جو ان کے والدین یا قریب ترین رشتہ دار چھوڑ کر مریں۔ قرآن پاک میں سورہ نساء کی آیات گیارہ اور بارہ میں بار بار ترکہ، ترکتم اور ترکن یعنی چھوڑے ہوئے مال کے الفاظ کا اعادہ کیا گیا ہے جس سے یہ قطعی اور حتمی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وراثت کا تعلق صرف اور صرف اس مال سے ہے جو مرنے والا اپنی موت کے وقت دنیا میں چھوڑے۔ اس بنیادی اور اٹل قاعدے سے چند انتہائی اہم شرعی اور قانونی اصول برآمد ہوتے ہیں جنہیں گہرائی سے سمجھے بغیر وراثت کے الہامی نظام کو ہرگز نہیں سمجھا جا سکتا۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مورث یعنی جس شخص کی جائیداد تقسیم ہونی ہے، اس کی موت سے پہلے کسی بھی انسان کا وراثت میں کوئی شرعی، اخلاقی یا قانونی حق پیدا ہی نہیں ہوتا۔ دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ میراث کے حق دار صرف اور صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو مورث کی موت کے وقت فی الواقع حقیقی طور پر زندہ موجود ہوں۔ کسی بھی مردہ شخص کو قانونی مفروضے کے تحت زندہ فرض کر کے وراثت کا حق دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اسی تسلسل میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ بصیرت افروز انداز میں بتاتے ہیں کہ جو رشتہ دار مورث کی زندگی ہی میں وفات پا چکے ہوں، ان کا مورث کے ترکے میں کوئی ادنیٰ سا حق بھی باقی نہیں رہتا، کیونکہ جس وقت وہ زندہ تھے اس وقت وراثت کا کوئی حق سرے سے پیدا ہی نہیں ہوا تھا، اور جب حق پیدا ہوا تو وہ اس دنیا میں موجود نہیں تھے۔ اس لیے کوئی بھی دوسرا شخص ان پہلے سے فوت شدہ لوگوں کا قائم مقام یا وارث بن کر دادا یا مورث کے مال میں کسی بھی قسم کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اسلام کا قانون وراثت دنیاوی قوانین کی طرح ضرورت مندی، محتاجی یا محض قابلِ رحم ہونے کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مکمل اور غیر متزلزل انحصار رشتے کی قربت اور اصولِ منفعت پر ہے۔ قرآن مجید کا نہایت واضح اور دو ٹوک اصول ہے کہ جو شخص مرنے والے سے رشتے میں جتنا زیادہ قریب ہو گا، وہ وراثت کا اول حق دار ہو گا، اور اس قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کا رشتہ دار کسی صورت حصہ نہیں پائے گا۔ اس بے مثل اور حکیمانہ اصول کو بیان کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو نکھار کر پیش کیا ہے کہ قرآن نے قریبی رشتہ داروں کا تعین خود اپنی حکمت کاملہ سے کر دیا ہے اور ان میں سے ہر ایک کا حصہ بھی حتمی طور پر مقرر کر دیا ہے۔ تقسیم وراثت کی اس جامع اور الہامی اسکیم کے تحت ہر وارث اپنا مقررہ حصہ میت کے ساتھ خود اپنے براہِ راست اور قریبی تعلق کی بنا پر پاتا ہے۔ کوئی بھی شخص کسی دوسرے قریبی حق دار کی موجودگی میں اس کے حق کا شریک نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس کی غیر موجودگی میں اس کا مبینہ قائم مقام بن کر اس کا حصہ غصب کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شریعت میں ماں اور باپ کا حق ان کی حقیقی موجودگی تک محدود ہے، لیکن اگر والدین وفات پا چکے ہوں تو ان کی غیر موجودگی میں دادا یا دادی کو جو وراثت کا حصہ ملتا ہے، وہ ہرگز اس غیر منطقی بنیاد پر نہیں ملتا کہ وہ والدین کے قائم مقام بن کر کھڑے ہو گئے ہیں، بلکہ اس لیے ملتا ہے کہ شریعت نے حق پدری اور حق مادری براہ راست اور خود بخود ان کو منتقل کر دیا ہے۔ اسی طرح حق ولدیت خالصتاً ان بچوں کا ہے جو میت کے اپنے صلب یا بطن سے براہ راست پیدا ہوئے ہوں۔ اولاد کی موجودگی میں اولاد کی بالواسطہ اولاد یعنی پوتے یا پوتیوں کو حصہ اس لیے نہیں ملتا کیونکہ راست رشتہ دار ان کے اور مورث کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ مولانا اس بات پر خصوصی زور دیتے ہیں کہ قرآنی احکامات سے ناواقف لوگ محض جذبات میں آکر شریعت کے اس لطیف اصول کو راشن ڈپو کی قطار سمجھ لیتے ہیں، جہاں وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ہی ایک شخص ہٹا تو دوسرا فوراً اس کی جگہ آ کھڑا ہوا، حالانکہ شریعت کا اصول قائم مقامی یعنی نمائندگی کا نہیں بلکہ رشتے کے قرب اور بعد کا ہے۔ شوہر اور بیوی کے وراثتی حق کا معاملہ بھی بالکل ایسا ہی ہے کہ زوجیت کا حق صرف براہ راست اور حینِ حیات ہوتا ہے، اگر بیوی شوہر کی زندگی میں مر جائے تو اس کے وارث شوہر کے مال سے حصہ مانگنے کے مجاز نہیں ہوتے، اور نہ ہی شوہر کے مرنے پر اس کے وارث فوت شدہ بیوی کا حصہ طلب کر سکتے ہیں۔ اسی طرح بہن بھائیوں کے حقِ اخوت میں بھی کسی قائم مقامی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ قرآنی حصص، جنہیں ذوی الفروض کہا جاتا ہے، ادا کرنے کے بعد جو مال بچ جاتا ہے، اس کی تقسیم کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور مستند تشریحات کی روشنی میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی صراحت کے ساتھ عصبات اور ذوی الارحام کے کڑے اور فطری احکام بیان کیے ہیں۔ بچ جانے والا ترکہ ان قریبی جدی رشتہ داروں کو ملتا ہے جو فطرتاً میت کے خاندانی پشت پناہ اور حامی و مددگار ہوتے ہیں۔ اگر وہ میسر نہ ہوں تو پھر یہ حق ذوی الارحام یعنی ماموں، نانا یا بیٹی کی اولاد وغیرہ کو ملتا ہے، مگر ان تمام صورتوں اور قرآنی اصولوں میں کہیں بھی دور دور تک قائم مقامی کا کوئی نظریہ یا تصور موجود نہیں ہے۔ جدید دور کے نام نہاد مفکرین کی جانب سے یتیم پوتے کو جبراً وارث قرار دینے کی جو مسخ شدہ تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان پر اصولی، قانونی، عقلی اور شرعی لحاظ سے کئی نہایت سنگین اور ناقابلِ تردید نوعیت کے اعتراضات وارد ہوتے ہیں، جو اس منظم قانونی ڈھانچے کو مکمل طور پر غیر معقول اور پراگندہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اس پر پہلا اور سب سے بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ تجویز اسلامی قانونِ میراث کے مقدس اور الہامی نظام میں قائم مقامی کا ایک ایسا باطل نظریہ داخل کر دیتی ہے جس کا قرآن پاک یا سنتِ رسول میں سرے سے کوئی ثبوت ہی ہم کو نہیں ملتا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس خود ساختہ تصور کی مضبوط عقلی تردید کرتے ہوئے یہ چبھتا ہوا سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر قائم مقامی کا اصول واقعی درست اور شرعی مان لیا جائے تو پھر قانون سازوں نے اسے صرف بیٹے اور بیٹی کی اولاد تک ہی محدود کیوں رکھا ہے؟ اگر یہ اصول برحق ہے تو پھر قانون کی رو سے ہر اس شخص کے تمام وارثوں کو قائم مقام مانا جانا چاہیے جو مورث کی زندگی میں مر گیا ہو، مثلاً فوت شدہ بیوی کے وارث، فوت شدہ باپ کے وارث، یا لاولد مر جانے والے بیٹے کی بیوہ وغیرہ بھی تو مورث کی جائیداد کے حق دار ٹھہرنے چاہئیں۔ لیکن مجوزین اس اصول کو اپنی مرضی اور من مانے طریقے سے، بغیر کسی شرعی یا عقلی دلیل کے، صرف یتیم پوتے تک محدود رکھتے ہیں، جس کی اسلام میں قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مزید برآں، اس نام نہاد اور کھوکھلے قائم مقامی کے اصول کا ایک اور بھیانک اور ناقابلِ فہم نقص یہ ہے کہ یہ خود قرآن مجید کے نہایت قطعی اور حتمی طور پر مقرر کردہ مساوی حصوں کو اپنی مرضی سے غیر مساوی بنا دیتا ہے۔ اس باریک مگر انتہائی اہم ریاضیاتی اور اصولی نکتے کی وضاحت کے لیے مولانا ایک بڑی عام فہم، سادہ اور چشم کشا مثال پیش کرتے ہیں کہ فرض کیجیے اگر ایک شخص کے دو بیٹے اس کی زندگی میں ہی فوت ہو جاتے ہیں، اور ان میں سے ایک بیٹا اپنے پیچھے چار بچے چھوڑ کر مرتا ہے جبکہ دوسرا بیٹا صرف ایک بچہ چھوڑ کر وفات پاتا ہے۔ قرآن کے قانونِ ولدیت، اصولِ قربت اور انسانی عقل کا سیدھا اور صاف تقاضا تو یہ ہے کہ رشتے میں اپنے دادا سے بالکل یکساں دوری پر ہونے کی وجہ سے ان پانچوں پوتوں کو ترکے میں برابر اور مساوی حصہ ملنا چاہیے۔ لیکن قائم مقامی کے اس غیر فطری اور متضاد اصول کے تحت دادا کی آدھی جائیداد اس اکیلے پوتے کو مل جائے گی اور باقی آدھی جائیداد ان چار پوتوں میں تقسیم ہو گی، جو کہ انصاف کے منافی اور قرآنی منشا کی صریح خلاف ورزی ہے۔ موجودہ دور کے بعض ماہرینِ قانون نے اپنی تجاویز کو مرتب کرتے ہوئے بڑی چالاکی سے نسبی رشتہ دار کی من مانی قید عائد کر دی ہے، جس کے تحت وہ مردہ شخص کے وارثوں میں سے محض نسبی رشتہ داروں کو چن لیتے ہیں اور باقی تمام شرعی حق داروں کو یکسر محروم کر دیتے ہیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس غیر منطقی اور جابرانہ طرزِ عمل پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دو دو مراحل پر نسبی رشتہ دار کی یہ قید آخر قرآن کے کس واضح حکم سے اخذ کی گئی ہے؟ اگر ایک قانونی مفروضے کے تحت مردہ انسان کو زندہ مان کر اسے وراثت دی جا رہی ہے تو یہ انعام سب پر عام ہونا چاہیے۔ درحقیقت یہ سارا طریق کار اور یہ تمام بے بنیاد دلائل اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ایک انتہائی منظم، بے عیب، منصفانہ اور محکم قانونِ میراث کو اپنی محدود اور ناقص سوچ کے مطابق مسخ کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے۔ اسلام کا قانونِ وراثت اپنے اندر ایک ایسی کامل اور جامع حکمت رکھتا ہے جس میں تمام حقوق و فرائض کو محض انسانی ہمدردی یا وقتی جذبات کی بجائے عدل، قربت، منفعت اور کائناتی فطری اصولوں کی پختہ بنیاد پر نہایت باریک بینی اور تناسب سے مقرر کیا گیا ہے، اور اس الہامی ضابطے میں کسی بھی انسانی ترمیم، اضافے یا خود ساختہ نظریات کو شامل کرنے کی قطعی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
ابواب
1 جلدکوئی ابواب نہیں

