Welcome to Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Or
Continue with Google
Light Mode
Salamti ka Rasta

مولانا مودودی کی کتاب

Salamti ka Rasta

سلامتی کا راستہ

سید ابوالاعلیٰ مودودی

قسم

کتاب

پڑھنے کا وقت

N/A

صفحات

27

انسانیت کو امن و امان کے حقیقی سرچشمے یعنی اسلام کی طرف رہنمائی۔

اپنا مطالعہ شروع کریں

پڑھنا شروع کریں

تعارف اور اولین سرخیوں سے آغاز کریں0%
0:000:00

Description

زیرِ نظر تحریر دراصل **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** کا وہ بصیرت افروز خطبہ ہے جو انہوں نے مئی ۱۹۴۰ء میں ریاست کپور تھلہ میں منعقدہ ایک ایسے اجتماع میں دیا جس میں ہندو، سکھ اور مسلمان سبھی شریک تھے۔ اس خطبے میں **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے انتہائی سادہ اور عام فہم عقلی مثالوں کے ذریعے کائنات کے نظام، خالق کے وجود اور توحید کی حقانیت کو ثابت کیا ہے۔ گفتگو کا آغاز **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے ایک بہت ہی بنیادی اور منطقی سوال سے کیا کہ کیا کوئی ذی ہوش انسان یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ بازار میں کوئی دکان بغیر کسی دکان دار کے چل رہی ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک دکان ہو جس کا نہ کوئی مالک ہو، نہ کوئی اس کی حفاظت کرنے والا ہو، اور نہ ہی کوئی سودا بیچنے والا، مگر اس کے باوجود وہاں خود بخود مال آتا ہو، خود بخود بکتا ہو اور چوری چکاری سے بھی محفوظ رہتا ہو؟ انسانی عقل اور فطرت فوراً اس بات کو رد کر دے گی اور کوئی بھی ہوش و حواس رکھنے والا شخص اسے دیوانگی کے سوا کچھ نہ سمجھے گا۔ اسی طرح **مولانا** نے ایک کارخانے کی مثال دی کہ اگر کوئی شخص دعویٰ کرے کہ شہر میں ایک فیکٹری بغیر کسی مالک، انجینئر یا مستری کے چل رہی ہے، مشینیں خود بخود بن گئی ہیں اور ان سے مصنوعات بھی خود ہی تیار ہو رہی ہیں، تو سننے والا یقیناً دعویٰ کرنے والے کے دماغی توازن پر شک کرے گا۔ اس تمہید کے بعد **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے سامعین کو غور و فکر کی دعوت دی کہ جب ایک معمولی بلب، کرسی، کپڑا یا مکان کسی بنانے والے کے بغیر خود بخود وجود میں نہیں آ سکتا، اور دنیا کے تمام فلسفی اور سائنسدان مل کر بھی اگر یہ کہیں کہ یہ چیزیں خود بخود بن گئی ہیں تو کوئی ان کا یقین نہیں کرے گا، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ زمین و آسمان کا یہ عظیم الشان اور پیچیدہ کارخانہ بغیر کسی خالق اور مالک کے چل رہا ہو؟ **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے کائنات کی وسعتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سورج، چاند اور ستاروں کی گردش، سمندروں سے بھاپ کا اٹھنا، بادلوں کا بننا، ہواؤں کا چلنا، بارش کا برسنا اور پھر مردہ زمین سے لہلہاتے کھیتوں اور باغات کا اگنا، یہ سب ایک زبردست حکمت اور انتظام کا پتہ دیتے ہیں۔ جس طرح ایک گز بھر کپڑا خود نہیں بن سکتا، اسی طرح انسان جیسا حیرت انگیز شاہکار بھی خود بخود وجود میں نہیں آ سکتا۔ انسانی تخلیق کے حوالے سے **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے ایک انتہائی باریک بین سائنسی اور عقلی نکتہ اٹھایا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر انسانی جسم کے اجزاء کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں کوئلہ، گندھک، فاسفورس، کیلشیم اور چند گیسوں کے سوا کچھ نہیں ملتا، جن کی مجموعی قیمت چند روپوں سے زیادہ نہیں۔ لیکن اگر ان بے جان مادوں کو اکٹھا کر دیا جائے تو کیا انسان بن جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ **مولانا** استدلال کرتے ہیں کہ ان بے جان اجزاء سے ایک زندہ، سننے والا، دیکھنے والا اور ہوائی جہاز جیسی ایجادات کرنے والا انسان تبھی بنتا ہے جب کوئی زبردست کاریگر اسے اپنی حکمت سے بنائے۔ ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کا عمل اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے بیان کیا کہ کس طرح ایک خوردبینی کیڑے سے انسان کی نشوونما شروع ہوتی ہے اور پھر ایک خاص تناسب کے ساتھ جسم کے اعضاء بنتے ہیں۔ جہاں آنکھ کی ضرورت ہے وہاں آنکھ، جہاں دل کی ضرورت ہے وہاں دل اور جہاں دماغ چاہیے وہاں دماغ بنتا ہے۔ پھر اس مجسمے میں جان ڈالی جاتی ہے اور اسے دیکھنے، سننے اور سوچنے کی صلاحیتیں عطا کی جاتی ہیں۔ یہ سب ایک ایسا کرشمہ ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک زبردست علم اور قدرت رکھنے والی ہستی کارفرما ہے۔ اس کے بعد **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے توحید کے عقلی ثبوت کی طرف پیش قدمی کی۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا کا کوئی بھی نظام، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ایک سے زیادہ ذمہ داروں کے ماتحت نہیں چل سکتا۔ اگر ایک اسکول کے دو ہیڈ ماسٹر ہوں یا ایک ملک کے دو بادشاہ ہوں تو نظام درہم برہم ہو جائے گا اور فساد برپا ہو جائے گا۔ انتظام اور نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ اختیارِ اعلیٰ صرف ایک ہستی کے پاس ہو۔ **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے کائنات کے نظام میں پائی جانے والی حیرت انگیز ہم آہنگی اور باقاعدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں سیارے، ستارے اور زمین و آسمان ایک مقررہ قانون کے تحت حرکت کر رہے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چاند زمین سے ٹکرا جائے یا سورج اپنا راستہ بدل لے۔ یہ زبردست ڈسپلن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کائنات کا حاکم صرف ایک ہے۔ اگر ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو کائنات کا نظام کبھی اس قدر ہمواری سے نہ چل سکتا اور ان کے درمیان ضرور ٹکراؤ ہوتا۔ قدرت کے نظام میں باہمی تعاون اور موافقت کا ذکر کرتے ہوئے **مولانا** نے فرمایا کہ ہوا، پانی، مٹی، روشنی اور حرارت سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ایک بیج اس وقت تک درخت نہیں بن سکتا جب تک زمین و آسمان کی ساری قوتیں اس کی پرورش میں حصہ نہ لیں۔ اگر ان عناصر میں سے کوئی ایک بھی تعاون سے انکار کر دے تو زندگی ختم ہو جائے۔ یہ اتفاق اور تعاون اس لیے ہے کہ یہ سب ایک ہی آقا کے غلام ہیں اور ایک ہی ضابطے کے پابند ہیں۔ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے واضح کیا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اس سلطنت میں صرف ایک ہی بادشاہ کا حکم چلتا ہے۔ کوئی دوسری ہستی اس لائق نہیں کہ وہ خدائی میں شریک ہو سکے، کیونکہ شراکت داری ہمیشہ بد انتظامی اور فساد کا باعث بنتی ہے۔ عقل کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ جس طرح ایک مالک اپنے نوکر کو اپنی جائیداد کا شریک نہیں بناتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خدائی میں اس کی مخلوق کا شریک ہونا ناممکن اور خلافِ عقل ہے۔ اپنے خطاب کے آخری حصے میں **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے انسانی زندگی کے موجودہ حالات کا ایک دردناک نقشہ کھینچا۔ آپ نے سامعین کو متوجہ کیا کہ ہم سب اسی کائنات کا حصہ ہیں اور یہ بنیادی حقیقتیں ہماری زندگی پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے سوال اٹھایا کہ آج انسان کی زندگی سے امن و سکون کیوں رخصت ہو گیا ہے؟ کیوں قومیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں اور انسان انسان کا دشمن بنا ہوا ہے؟ ہر طرف ظلم، بے انصافی، بد دیانتی اور دھوکہ دہی کا بازار گرم ہے۔ **مولانا** نے اس تضاد کو نمایاں کیا کہ جب کائنات کی ہر چیز، ستارے، ہوا، پانی اور درخت امن کے ساتھ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور فطرت کے نظام میں کہیں فساد نظر نہیں آتا، تو صرف انسان ہی کیوں بدامنی اور مصیبت کا شکار ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا انسانیت کے لیے ناگزیر ہے، اور **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ انسان نے اس کائناتی نظام اور اپنے حقیقی خالق و مالک کے احکامات سے روگردانی کی ہے، جو کہ سلامتی کا واحد راستہ ہے۔ یہ بصیرت افروز تجزیہ دراصل انسان کو اپنی اصل پوزیشن پہچاننے اور خالقِ کائنات کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ انسانی معاشرہ بھی اسی طرح امن و آشتی کا گہوارہ بن سکے جس طرح باقی کائنات ہے۔

Reading Guide

سلامتی کا راستہ – Full Chapters & Sections Online Online

Book

سلامتی کا راستہ

1

What سلامتی کا راستہ Teaches

  • Learn the main ideas and how they connect to daily Islamic life.
  • Use the structure to study step by step.
2

Browse Chapters and Sections in this Book

  • Pick any chapter to start reading.
  • Every section is organized for quick learning.
3

Read Chapters with Clear Islamic Explanation

  • Clear explanation makes learning simple.
  • Read the relevant headings as you go.
4

Key Points in Each Book Section

  • Each heading highlights the most important parts.
  • Use it for revision and focused study.
5

Bookmark and Continue Reading Your Selected Section

  • Save your place so you can continue reading anytime.
  • Use bookmarks to return to the same heading.