More Books
کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
معروف مفکر اور عالم دین سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف کے اس بنیادی حصے میں انسانی زندگی، اس کے طرزِ عمل اور کائنات کے ساتھ انسان کے تعلق کی نہایت گہری اور فلسفیانہ تشریح پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے اور مختلف اشیا سے اس کا واسطہ پڑتا ہے، تو وہ ان کے ساتھ اس وقت تک کوئی بھی معاملہ یا برتاؤ نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ ان اشیا کی حقیقت، ان کی ماہیت اور اپنے ساتھ ان کے تعلق کے بارے میں کوئی نہ کوئی حتمی یا قیاسی رائے قائم نہ کر لے۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان کو ہر قدم پر یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اس کے گرد و پیش موجود چیزیں کیا ہیں اور ان کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں کہ انسان کا روزمرہ کا مشاہدہ بھی یہی بتاتا ہے کہ جب وہ کسی دوسرے شخص سے ملتا ہے تو سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کون ہے، اس کا مرتبہ کیا ہے اور اس سے تعلق کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ اس علم یا قیاس کے بغیر انسان کسی کے ساتھ درست رویہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔ انسان کی پسند، ناپسند، تعظیم، تحقیر، خوف یا محبت، غرض ہر جذباتی اور عملی رویہ اسی رائے کا مرہونِ منت ہوتا ہے جو وہ ان اشیا کے بارے میں اپنے ذہن میں قائم کرتا ہے۔ اس نقطے کو مزید نکھارتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت جامع اور خوبصورت مثال پیش کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ علم، وہم اور حسی مشاہدے کے فرق کو واضح کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک بچہ آگ کو دیکھتا ہے تو وہ محض اپنے حواس پر بھروسا کرتے ہوئے اسے ایک چمکتا ہوا خوبصورت کھلونا سمجھ لیتا ہے اور اسے پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھا دیتا ہے، جو کہ سراسر جہالت پر مبنی رویہ ہے اور تجربہ فوراً اس کی غلطی ثابت کر دیتا ہے۔ دوسری طرف، ایک شخص وہم اور قیاس کی بنیاد پر اسی آگ کو دیوتا یا الوہیت کا مظہر سمجھ کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتا ہے، جو کہ ایک اور قسم کی جہالت ہے۔ اس کے برعکس، ایک تیسرا شخص علم اور تحقیق کی روشنی میں آگ کی اصل ماہیت کو سمجھتا ہے اور یہ جان لیتا ہے کہ آگ کا کام جلانا اور پکانا ہے، اور اس کا آگ کے ساتھ خادم اور مخدوم والا تعلق ہے۔ یہ خالصتاً ایک علمی رویہ ہے جس کی بنیاد ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ انسانی زندگی کے وسیع تر تناظر اور کائنات کے ساتھ انسان کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ انسان جب خود کو اس وسیع و عریض کائنات میں موجود پاتا ہے، جہاں اس کے پاس جسمانی قوتیں ہیں اور زمین و آسمان کی ان گنت اشیا اس کے تصرف میں ہیں، تو اس کے لیے یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اور اس نظامِ کائنات کے بارے میں ایک واضح رائے قائم کرے۔ کسی بھی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ زندگی کا کوئی راستہ متعین کرے جب تک وہ خود سے یہ بنیادی سوالات نہ پوچھے کہ وہ کون ہے، کیا وہ ایک خود مختار ہستی ہے یا کسی اعلیٰ طاقت کے ماتحت ہے؟ کیا وہ اپنے اعمال کے لیے کسی کے سامنے جوابدہ ہے؟ اس کے جسم اور اس کی قوتوں کا اصل مالک کون ہے؟ اور اس دنیوی زندگی کا انجام کیا ہونے والا ہے؟ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ دنیا کا ہر انسان، چاہے اس نے ان سوالات پر باقاعدہ فلسفیانہ انداز میں غور کیا ہو یا نہ کیا ہو، شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کا کوئی نہ کوئی جواب اپنے ذہن میں ضرور رکھتا ہے۔ اور انسان کا پوری زندگی کا عملی رویہ بالکل اسی جواب کے تابع ہوتا ہے جو اس نے اپنے دل و دماغ میں متعین کر رکھا ہوتا ہے۔ یہ قاعدہ صرف انفرادی زندگی تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی زندگی اور انسانی معاشروں پر بھی پوری طرح لاگو ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں مولانا بڑی صراحت کے ساتھ یہ بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی تہذیب، تمدن، اور اجتماعی ہیئت کے لیے اس وقت تک کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ انسانی زندگی کے ان بنیادی اور اساسی سوالات کا کوئی حتمی جواب متعین نہ کر لیا جائے۔ ایک معاشرے کا اخلاقی نظریہ، اس کے معاشی و سیاسی اصول اور اس کی طرزِ معاشرت سب کے سب اسی جواب کے تابع ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ تمام سوالات عالمِ غیب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے جوابات آسمان پر لکھے ہوئے نظر نہیں آتے کہ ہر شخص انہیں بآسانی پڑھ لے، اس لیے انسانوں کے درمیان ان سوالات کو حل کرنے کے طریقوں میں ہمیشہ سے شدید اختلاف پایا جاتا رہا ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے دنیا میں اختیار کیے گئے تین بنیادی راستوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ انسان مکمل طور پر صرف اپنے حواس پر انحصار کرے اور جو کچھ اسے ظاہری طور پر محسوس ہوتا ہے، اسی کو حتمی سچائی مان لے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حسی مشاہدات کے ساتھ ساتھ انسان اپنے وہم اور قیاس کی آمیزش سے کوئی نظریہ قائم کر لے۔ اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ ان پیغمبروں کی بات پر یقین کر لیا جائے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں ان غیبی حقائق کا براہِ راست علم عطا کیا گیا ہے۔ ان میں سے ہر طریقہ اپنے ماننے والوں کے اندر ایک بالکل مختلف قسم کا طرزِ عمل پیدا کرتا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ پہلے طریقے، یعنی خالص حسی مشاہدے اور مادہ پرستی پر مبنی نظریے کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہیں۔ جب انسان محض اپنے حواس پر اعتماد کر کے زندگی کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے تو وہ لازمی طور پر اس گمراہ کن نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ پوری کائنات محض ایک اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہے اور اس کا کوئی رب یا مالک نہیں ہے۔ اس نظریے کے تحت انسان خود کو محض ایک ترقی یافتہ جانور سمجھتا ہے، جو اپنی مرضی کا مالک اور ہر قسم کی جوابدہی سے آزاد ہے۔ دنیا کی تمام اشیا اور وسائل اس کے نزدیک محض ایک لوٹ کا مال ہیں، جسے وہ اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بے دریغ استعمال کرتا ہے۔ جب کوئی فرد اس خالص مادی اور حسی نقطہ نظر کو اپنا لیتا ہے، تو اس کے نتیجے میں ایک نہایت خود غرض، مفاد پرست اور بے لگام قسم کی انفرادی سیرت جنم لیتی ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ متنبہ کرتے ہیں کہ ایسا شخص اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دھوکہ دہی، بددیانتی، اور ظلم سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کی ہمدردی اور ایثار کی تہہ میں بھی دراصل اس کی اپنی ذات یا اس کی قوم کا مادی مفاد ہی چھپا ہوتا ہے جسے قوم پرستی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس انفرادی بگاڑ کے بعد مولانا اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب اس مادہ پرستانہ نظریہ حیات کے حامل افراد مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں، تو وہاں سیاست سراسر انسانی حاکمیت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس نظامِ حکومت میں قوانین انسانی خواہشات اور وقتی مصلحتوں کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں اور ریاست کی باگ ڈور انھی لوگوں کے ہاتھوں میں آ جاتی ہے جو سب سے زیادہ مکار، ظالم اور چالاک ہوتے ہیں۔ ان کے معاشرے کا پورا سماجی ڈھانچہ نفس پرستی کے گرد گھومتا ہے، جہاں لذتوں کے حصول کے لیے ہر قسم کی اخلاقی قیود کو توڑ دیا جاتا ہے اور آرٹ کے نام پر شہوانیت کو فروغ ملتا ہے۔ معاشی نظام پر اس نظریے کے اثرات بیان کرتے ہوئے سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ ایسی سوسائٹی میں کبھی عدل قائم نہیں ہو سکتا۔ یہاں کے لوگ دنیا کی دولت کو مالِ غنیمت سمجھتے ہیں جس پر قبضہ کرنے کے لیے ظالمانہ کشمکش جاری رہتی ہے۔ اس پورے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے جو نظامِ تعلیم مرتب کیا جاتا ہے، وہ بھی سراسر اسی مادی نظریہ حیات کا عکاس ہوتا ہے جو نئی نسلوں کو اسی جاہلی معاشرے کا پرزہ بناتا ہے۔ اس طویل اور فکر انگیز بحث کو سمیٹتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نہایت مدلل انداز میں ثابت کرتے ہیں کہ یہ طرزِ عمل درحقیقت "خالص جاہلیت" کا رویہ ہے۔ یہ بالکل اس نادان بچے کی طرح ہے جو محض حسی مشاہدے پر بھروسا کرتے ہوئے آگ کو کھلونا سمجھ لیتا ہے۔ بچے کی غلطی تو فوراً واضح ہو جاتی ہے، لیکن اس مادی جاہلیت کی آگ نہایت دھیمی ہے جو صدیوں تک انسانیت کو ظلم، ناانصافی، جنگ و جدل اور تباہی کی بھٹی میں جھلستی رہتی ہے۔ ایک عقلمند انسان کے لیے دنیا میں پھیلی ہوئی یہ خرابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ محض حسی اور مادی تصورات پر مبنی یہ رویہ ہرگز کوئی علمی رویہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ خالص جہالت ہے۔
ابواب
1 جلدکوئی ابواب نہیں

