More Books
کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
کتاب ’’شہادت حق‘‘ کی اس تحریر میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کو ان کی زندگی کے سب سے بڑے اور بنیادی مقصد کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی حاکمیت کے اقرار سے ہوتا ہے، جس نے اس وسیع کائنات کو پیدا کیا، انسان کو عقل و شعور کی نعمت بخشی اور اسے زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ انسان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کیں اور انبیاء کرام کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ سکھائیں۔ آج دنیا میں جو بھی نیکی، اخلاق، پاکیزگی اور ہدایت کی روشنی موجود ہے، وہ سب انہی برگزیدہ بندوں کی محنت کا نتیجہ ہے جس کا احسان انسان کبھی نہیں اتار سکتا۔ مصنف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے اجتماعات کا مقصد محض آپس میں بیٹھ کر اپنے کام کا جائزہ لینا نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک اہم مقصد عام لوگوں تک اللہ کے دین کی دعوت پہنچانا ہے۔ اگرچہ یہ دعوت تمام انسانوں کے لیے ہے، لیکن اس مخصوص تحریر میں مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ انہیں یاد دلایا جا سکے کہ کلمہ پڑھنے اور مسلمان کہلانے کے بعد ان پر کون سی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ یہاں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس عام غلط فہمی کو دور کرتے ہیں کہ مسلمان ہونے کا مطلب صرف چند عبادات مثلاً نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، حج کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا، یا نکاح و طلاق کے اسلامی قوانین پر عمل کر لینا ہے۔ اگرچہ یہ سب دین کا لازمی حصہ ہیں، لیکن ایک مسلمان پر ان سب سے بڑھ کر ایک بہت بڑی اور بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور وہ ہے پوری دنیا کے سامنے اس حق کی گواہی دینا جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ قرآن مجید کی روشنی میں مسلمانوں کو ایک امتِ وسط یعنی ایک بہترین اور درمیانی امت اسی لیے بنایا گیا ہے تاکہ وہ باقی تمام انسانوں پر حق کے گواہ بن کر کھڑے ہوں، بالکل اسی طرح جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں پر گواہ ہیں۔ یہ شہادتِ حق مسلمانوں کی زندگی کا اصل مقصد ہے، اور اگر وہ اسے پورا نہیں کرتے تو گویا انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد ہی اکارت کر دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایک تاکیدی حکم ہے کہ حق کی سچی گواہی دو اور اسے ہرگز نہ چھپاؤ۔ جو شخص اللہ کی طرف سے دی گئی گواہی کو چھپاتا ہے، اسے قرآن نے سب سے بڑا ظالم قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی تاریخی مثال پیش کرتے ہیں کہ انہیں بھی حق کی گواہی کے منصب پر سرفراز کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے حق کو چھپایا اور اس کے برعکس باطل کی گواہیاں دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ذلت، رسوائی اور مسکنت مسلط کر دی اور وہ اللہ کے غضب کا شکار ہو گئے۔ یہ اس بات کی واضح تنبیہ ہے کہ جو قوم حق کی امین بن کر اس امانت میں خیانت کرتی ہے، اس کا انجام انتہائی عبرتناک ہوتا ہے۔ اس گواہی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جزا اور سزا کا سارا قانون اور بازپرس کا نظام اسی پر کھڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ عادل، حکیم اور رحیم ہے، اس لیے یہ بات اس کے انصاف کے خلاف ہے کہ وہ لوگوں کو اس وقت تک سزا دے جب تک ان پر حق پوری طرح واضح نہ کر دیا جائے۔ اسی لیے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی نبوت کا سلسلہ شروع کیا گیا تاکہ انسانوں پر اللہ کی مرضی اور زندگی گزارنے کے درست اصول واضح کر دیے جائیں۔ پیغمبروں کی بنیادی ذمہ داری یہی تھی کہ وہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں اور ڈرائیں تاکہ قیامت کے دن انسانوں کے پاس یہ حجت اور بہانہ نہ رہے کہ انہیں کسی نے سیدھے راستے سے خبردار نہیں کیا تھا۔ اس کڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا واضح کرتے ہیں کہ انبیاء کرام نے اپنی یہ ذمہ داری انتہائی جانفشانی اور شدتِ احساس کے ساتھ ادا کی۔ انہوں نے لوگوں پر اللہ کی حجت تمام کر دی تاکہ اگر لوگ گمراہ ہوں تو وہ خود اپنے اعمال کے ذمہ دار ہوں، اور یہ الزام پیغمبروں پر نہ آئے کہ انہوں نے پیغام نہیں پہنچایا۔ اب چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، اس لیے یہ عظیم اور نازک ذمہ داری اب بحیثیت مجموعی پوری امت مسلمہ کے کاندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ انبیاء کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے اب اس امت کا یہ فرض ہے کہ وہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں تک اللہ کی ہدایت پہنچائے۔ اگر مسلمان یہ فرض بخوبی انجام دیں گے تو وہ اجر کے مستحق ہوں گے، اور اگر وہ اس میں کوتاہی کریں گے تو آخرت میں عام انسانوں سے پہلے اس امت کی پکڑ ہوگی، کیونکہ ان کی غلط شہادت اور غفلت کی وجہ سے دنیا گمراہی کا شکار ہوئی۔ اس کے بعد سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس شہادتِ حق کو ادا کرنے کے دو بنیادی طریقے بیان کرتے ہیں جن میں پہلی قولی شہادت اور دوسری عملی شہادت ہے۔ قولی شہادت سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنی زبان اور قلم کے ذریعے دنیا پر اسلام کی سچائی کو واضح کریں۔ ہمارے پاس ابلاغ و اشاعت کے جتنے بھی ذرائع اور علم و فنون کے جو بھی وسائل موجود ہیں، ان سب کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ انسان کے عقائد، افکار، اخلاق، تمدن، معاشرت، سیاست، قانون اور معیشت کے حوالے سے اسلام نے جو بھی اصول دیے ہیں، انہیں دلائل کے ساتھ ثابت کیا جائے کہ یہی حق ہے، اور جو نظریات اسلام کے خلاف ہیں، ان پر معقول تنقید کی جائے تاکہ ان کا باطل ہونا ظاہر ہو سکے۔ یہ قولی گواہی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک پوری امت بحیثیت مجموعی اس کام کو اپنی قومی اور اجتماعی سعی و جہد کا مرکزی نقطہ نہ بنا لے۔ ہماری تمام تر توانائیاں اور دل و دماغ کی صلاحیتیں اسی ایک مقصد کے گرد گھومنی چاہئیں۔ دوسری قسم یعنی عملی شہادت کی تشریح کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ صرف زبانی دعوے کافی نہیں ہیں، بلکہ دنیا مسلمانوں کی عملی زندگی میں ان اصولوں کی برکات کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ لوگوں کو مسلمانوں کے حسنِ سلوک، معاملات کی صفائی اور ایمانداری میں ایمان کی مٹھاس محسوس ہونی چاہیے۔ افراد کے ذاتی کردار سے لے کر معاشرے کے اجتماعی رویوں تک، ہر جگہ اسلام کا بول بالا ہونا چاہیے۔ ہمارے گھر، بازار، دکانیں، کارخانے، تعلیمی ادارے اور قومی پالیسیاں سب اسلام کی حقانیت کا زندہ ثبوت ہونے چاہئیں۔ اس بات کو مزید وسعت دیتے ہوئے مصنف یہ نہایت اہم نکتہ بیان کرتے ہیں کہ اس عملی شہادت کی اصل اور حتمی تکمیل صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ایک ایسی اسٹیٹ قائم ہو جو خالصتاً انہی اصولوں پر مبنی ہو۔ وہ اسلامی ریاست اپنے نظامِ عدل، حسنِ انتظام، معاشی خوشحالی، باشندوں کی فلاح، حکمرانوں کی نیک سیرتی اور خارجہ و داخلہ پالیسی کے ذریعے پوری دنیا کو یہ دکھا دے کہ اسلام پر عمل کرنے ہی میں نوعِ انسانی کی اصل فلاح اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ لیکن تحریر کے آخری حصے میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ مسلمانوں کی موجودہ حالت کا انتہائی تلخ اور افسوسناک جائزہ پیش کرتے ہیں کہ آج ہم بحیثیت قوم اسلام کے حق میں نہیں، بلکہ اس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی قولی گواہی کا جائزہ لیں تو چند افراد کو چھوڑ کر پوری امت کا رویہ اسلام کی نفی کر رہا ہے۔ ہمارے زمینداروں کا عمل یہ گواہی دے رہا ہے کہ انہیں اسلام کا قانونِ وراثت قبول نہیں، ہمارے جج اور وکیل اپنے فیصلوں سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اسلامی قوانین کے بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے غیر اسلامی قوانین کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے، پروفیسر اور اساتذہ مغرب کی ملحدانہ تعلیمات کی ترویج کر رہے ہیں اور اسلامی نظریات کو قابل التفات نہیں سمجھتے۔ ہمارے ادیبوں اور صحافیوں کے نزدیک ادب اور صحافت کا معیار وہی ہے جو روس، فرانس یا امریکہ کے دہریوں کا ہے۔ ہمارے تاجر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اسلامی اصولوں کے مطابق تجارت ناممکن ہے اور کاروبار صرف کافرانہ طریقوں پر چل سکتا ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما قومیت اور وطنیت کے انہی نعروں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو غیر مسلموں کے ہیں، گویا ان کے نزدیک سیاست میں اسلام کی کوئی رہنمائی موجود ہی نہیں ہے۔ آخری گزارشات میں مولانا مسلمانوں کی عملی شہادت کی تباہ حالی پر ماتم کرتے ہیں۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا حال ہماری قولی شہادت سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ آج کا مسلمان فرد کفر کے زیر اثر پرورش پانے والے افراد سے اخلاقی طور پر کسی بھی طرح بلند نظر نہیں آتا۔ مسلمانوں کے اندر جھوٹ، دھوکہ دہی، خیانت، چوری، بدعہدی، بے حیائی اور ظلم اسی طرح پایا جاتا ہے جس طرح کسی بھی کافر قوم میں موجود ہے۔ ہماری معاشرت، شادیاں، غمی کی تقریبات، میلے، عرس، رسم و رواج اور رہنے سہنے کے طریقے مکمل طور پر جاہلیت اور غیر مسلموں کی نقل پر مبنی ہیں۔ ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کا نظام، اپنی انجمنوں کے مقاصد اور اپنی قومی و سیاسی تحریکوں کا طرزِ عمل بھی ہو بہو کافر اقوام سے مستعار لیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جن خطوں میں مسلمانوں کی اپنی آزاد حکومتیں قائم ہیں، وہاں بھی ریاست کے بنیادی قوانین اور نظامِ حکومت اسلام کے بجائے کفر کے اصولوں پر چل رہے ہیں۔ یہ تمام تر صورتحال اس بات کی دردناک گواہی ہے کہ ہم نے مسلمان ہونے کے باوجود اپنے دین کی سچائی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے بجائے، اپنے قول و فعل سے اسلام کے خلاف شہادت دی ہے جو کہ دنیا اور آخرت دونوں میں تباہی کا راستہ ہے۔
ابواب
1 جلدکوئی ابواب نہیں

