Welcome to Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Or
Continue with Google
Light Mode
Islami Nizam-e-Taleem

مولانا مودودی کی کتاب

Islami Nizam-e-Taleem

اسلامی نظام تعلیم

سید ابوالاعلیٰ مودودی

قسم

کتاب

پڑھنے کا وقت

N/A

صفحات

34

زیرِ مطالعہ متن میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ہمارے ملک میں رائج نظامِ تعلیم کی خامیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی زوال کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے ا...

اپنا مطالعہ شروع کریں

پڑھنا شروع کریں

تعارف اور اولین سرخیوں سے آغاز کریں0%

Description

زیرِ مطالعہ متن میں سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ہمارے ملک میں رائج نظامِ تعلیم کی خامیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی زوال کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور ایک جامع اور انقلابی اسلامی نظامِ تعلیم وضع کرنے کی ناگزیر ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ مولانا توجہ دلاتے ہیں کہ اصلاحات نافذ کرنے سے قبل تعلیمی ڈھانچے کی خرابیوں کا گہرا ادراک ہونا چاہیے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ہمارے ہاں بنیادی طور پر دو متصادم تعلیمی نظام رائج ہیں، ایک وہ قدیم مدارس پر مبنی نظام ہے جو مذہبی ضروریات کے نام پر مساجد کے لیے علماء تیار کر رہا ہے، جبکہ دوسرا جدید نظامِ تعلیم ہے جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مذہبی دائرے سے باہر دنیاوی معاملات چلانے کے لیے کارکنان پیدا کرتا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس تعلیمی ثنویت کو گمراہ کن قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ دین اور دنیا کی تفریق کے باطل نظریے پر استوار ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ قدیم مذہبی نظام کے حوالے سے اس عام غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہیں کہ یہ خالص دینی تعلیم کا نظام تھا۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ یہ درحقیقت قدیم مسلمان حکومتوں کا مرتب کردہ سول سروس کا نظام تھا جس کی عملی افادیت برطانوی تسلط کے بعد ختم ہو گئی تھی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ انگریز کی آمد کے بعد اس پرانے نظام کی کوئی جگہ نہ رہی تھی، لیکن تہذیبی میراث کی بقا اور مذہبی ضروریات پوری کرنے کی خاطر قوم کے ایک حصے نے اسے جوں کا توں برقرار رکھا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق حالات بدلنے کے ساتھ اس نظام کی افادیت کم ہوتی گئی، اور اس سے فارغ التحصیل افراد کا مصرف محض مسجدوں کی امامت یا مذہبی جھگڑوں کو ہوا دینا رہ گیا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان مدارس کی بدولت دین کا کچھ علم ضرور پھیلتا ہے، مگر ان سے قوم کو جو نقصان پہنچ رہا ہے وہ ناقابلِ تلافی ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ یہ طبقہ نہ اسلام کی عصری نمائندگی کر سکتا ہے، نہ جدید اجتماعی مسائل کو اسلامی اصولوں پر حل کر سکتا ہے، بلکہ ان کے طرزِ عمل سے دین کے وقار میں کمی آ رہی ہے۔ مولانا قدیم نصاب پر تنقید کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جسے آج دینی تعلیم سمجھا جاتا ہے، اس میں زیادہ زور ان قدیم علوم جیسے منطق، فلسفہ، اور صرف و نحو پر ہے جو صدیوں قبل کی عدالتی ضروریات کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مدارس میں قرآن کا تحقیقی مطالعہ بالکل ناپید ہے اور صرف ایک یا دو سورتیں پڑھائی جاتی ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ حدیث کی تعلیم کے حوالے سے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ مطالعہ صرف فقہی اختلافات تک محدود ہے، جبکہ اسلام کے معاشی، سیاسی، اور بین الاقوامی قانون پر روشنی ڈالنے والی احادیث کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان مدارس میں اجتہادی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا مقصود ہی نہیں، جس کی وجہ سے یہ نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اس کے بعد مولانا اس جدید نظامِ تعلیم کا جائزہ لیتے ہیں جو انگریزوں نے برصغیر میں قائم کیا تھا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق انگریز کے سامنے انسانیت کا وہ نقشہ ہرگز نہیں تھا جو ایک مسلمان کا ہونا چاہیے، اور نہ ہی اس کا مقصد مسلمانوں کی تہذیب کو زندہ رکھنا تھا۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انگریز کو اس غلام خطے میں محض ایسے آلہ کار درکار تھے جو اس کی زبان سمجھیں، اس کے انتظامی اصولوں کو جانیں، اور اس کی منشا کے مطابق نو آبادیاتی نظام کو چلائیں تاکہ وہ اپنے ہی ملک کو فتح کر کے غیروں کے حوالے کرتے رہیں۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس مغربی نظام میں پڑھائے جانے والے تمام علوم خدا فراموش ذہنوں کی پیداوار تھے جن میں اسلام کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ مولانا فرماتے ہیں کہ جب طالب علم کائنات اور انسانی تاریخ کا مطالعہ خالق کے تصور کے بغیر کرے گا، تو وہ قدرتی طور پر دین سے دور ہوتا جائے گا۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ اس جدید تعلیم کے اخلاقی پہلو پر چوٹ کرتے ہیں کہ اس نظام نے نوجوانوں کو نہ صرف اسلامی اخلاق سے محروم کیا بلکہ ان میں وہ بنیادی انسانی اخلاقیات بھی پیدا نہ کیں جو مغربی قوموں کی ترقی کا راز ہیں۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ فرض شناسی، ضبطِ اوقات، اور عزم جیسی خوبیاں ہمارے ہاں ناپید ہیں، اور اس کے برعکس رشوت خور، خویش پرور، اور مفاد پرست افراد پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے ملک کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ ان دلائل کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر ہم ایک ترقی خواہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ان دونوں متوازی نظام ہائے تعلیم کو مکمل طور پر ختم کر کے ایک نیا اور جامع اسلامی نظامِ تعلیم وضع کرنا ہو گا۔ مولانا کے نزدیک تعلیم کبھی غیر جانبدار نہیں ہو سکتی، بلکہ ہر قوم اپنے نظامِ تعلیم کے ذریعے آنے والی نسلوں کو اپنے نظریات کے سانچے میں ڈھالتی ہے۔ سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ انتہائی حماقت ہو گی اگر ہم آزاد ہونے کے بعد بھی نوجوانوں کو غیروں کے وضع کردہ نظامِ تعلیم کے سپرد کیے رکھیں جو انہیں اپنی ہی تاریخ اور مذہب کی نظروں میں ذلیل کر دے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نئے نظام کا خاکہ پیش کرتے ہوئے زور دیتے ہیں کہ ہمیں دین اور دنیا کی تفریق کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا، کیونکہ یہ تقسیم سراسر غیر اسلامی ہے۔ سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ واضح کرتے ہیں کہ ہماری تعلیم بیک وقت دینی اور دنیاوی ہونی چاہیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے تمام جدید علوم کو دینِ اسلام کی نظر سے پرکھیں اور اپنی پوری قومی زندگی کو اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق چلانے کے قابل بن سکیں۔ مولانا اپنی گفتگو کو اس عظیم تصور پر سمیٹتے ہیں کہ ہماری تعلیم کا حتمی مقصد ایسے باکردار افراد کی تیاری ہونا چاہیے جو ہماری اسلامی تہذیب پر سچا ایمان رکھتے ہوں، اس کے اصولوں کو بخوبی سمجھتے ہوں، اور جن کے اندر اتنی اخلاقی اور فکری طاقت موجود ہو کہ وہ ہماری اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں کو کامیابی کے ساتھ چلا کر دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی، روشن اور مکمل نقشہ شاندار طریقے سے پیش کر سکیں۔

Reading Guide

اسلامی نظام تعلیم – Full Chapters & Sections Online

Book

اسلامی نظام تعلیم

1

What اسلامی نظام تعلیم Teaches

  • Learn the main ideas and how they connect to daily Islamic life.
  • Use the structure to study step by step.
2

Browse Chapters and Sections in this Book

  • Pick any chapter to start reading.
  • Every section is organized for quick learning.
3

Read Chapters with Clear Islamic Explanation

  • Clear explanation makes learning simple.
  • Read the relevant headings as you go.
4

Key Points in Each Book Section

  • Each heading highlights the most important parts.
  • Use it for revision and focused study.
5

Bookmark and Continue Reading Your Selected Section

  • Save your place so you can continue reading anytime.
  • Use bookmarks to return to the same heading.