More Books
کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
کتاب ’’سانحہ مسجد اقصیٰ‘‘ امت مسلمہ کے دردناک حالات اور عالمی استعمار کی ان گھناؤنی سازشوں کا انتہائی جامع، بصیرت افروز اور دلخراش احاطہ کرتی ہے جن کے تحت مسلمانوں کے قبلہ اول کو غصب کیا گیا۔ اس کتاب کے مندرجات کا آغاز ایک نہایت ہی سادہ مگر چشم کشا مثال سے ہوتا ہے جس میں فلسطین اور کشمیر پر ہونے والے غاصبانہ قبضے کو ایک ایسے گھر سے تشبیہ دی گئی ہے جس پر ڈاکو زبردستی قبضہ کر لیں۔ جب کسی گھر پر ڈاکو حملہ آور ہوتے ہیں تو گھر والوں کا یہ بنیادی اور اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ بھرپور مزاحمت کریں اور اپنا گھر واپس لینے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ مگر عالمی طاقتیں فلسطین کے مظلوم عوام پر یہ ظالمانہ اصول مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ نہ صرف مزاحمت ترک کر دیں بلکہ اپنے دلوں میں یہ تسلیم کر لیں کہ ان کا آبائی گھر اب ہمیشہ کے لیے غاصبوں کا ہو چکا ہے۔ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** کے افکار کی روشنی میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ عالمی استعمار بعض کمزور اور مفاد پرست افراد کو گھر کا ایک چھوٹا سا حصہ دے کر یہ منوانے کی کوشش کر رہا ہے کہ بس یہی ان کی کل کائنات ہے۔ جو لوگ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، انہیں دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے اور جو غاصبوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، انہیں عالمی سطح پر امن پسند اور صاحب ضمیر رہنما قرار دے کر سراہا جاتا ہے۔ یہ محض کسی عام خطے یا زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے معراج اور مسلمانوں کے قبلہ اول کا سودا ہے۔ نام نہاد امن معاہدوں، روڈ میپ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے مختلف حلوں کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ امن کوششیں صیہونیوں کے اپنے دفاعی اور توسیعی اقدامات کا ہی ایک تسلسل ہیں۔ جب صیہونی افواج ہر طرح کا ظلم اور جبر روا رکھنے کے باوجود فلسطینیوں کی دوسری تحریک انتفاضہ کو کچلنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئیں، تو انہوں نے ایک نئی چال چلی اور خود فلسطینی قیادت کے ایک حصے کو اپنے ہی بھائیوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس صورتحال کے حوالے سے **مولانا** کی بصیرت آج بھی حرف بحرف سچ ثابت ہو رہی ہے۔ فلسطینی قیادت میں سے جو لوگ شدت پسندی کے نام پر اپنے ہی عوام کی مزاحمت کو کچلنے کا اعلان کرتے ہیں اور لاکھوں بے گھر مہاجرین کی واپسی یا مسجد اقصیٰ کی آزادی جیسے بنیادی حقوق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں، وہ صیہونیوں اور ان کے عالمی سرپرستوں کی آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں۔ یہ دراصل ایک تاریخی تسلسل ہے جس میں صیہونیوں کا اصل اور حتمی ہدف ہمیشہ سے مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر رہا ہے۔ نمازیوں پر فائرنگ کرنا، مسجد کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا اور مسلمانوں کے داخلے پر پابندیاں عائد کرنا اسی عظیم اور خطرناک صیہونی منصوبے کی مختلف کڑیاں ہیں۔ مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کا وہ دلخراش اور روح فرسا واقعہ، جس نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے قلوب و اذہان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا تھا، اس بات کا غماز ہے کہ دشمن کس حد تک جری ہو چکا ہے۔ **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے اس دردناک سانحے پر اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کی اجتماعی بے حسی اور کمزوری کو جھنجھوڑا ہے۔ دنیا میں سوا ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود یہودیوں کی یہ جسارت کہ وہ اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساڑھے چودہ سال تک رہنے والے قبلے کو نذر آتش کر دیں، امت مسلمہ کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی ذلت اور رسوائی کا مقام ہے۔ اسرائیل نے اس آتشزدگی کے بعد دنیا اور مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے پے در پے بے ہودہ جھوٹ گھڑے۔ پہلے اسے بجلی کے تاروں کی خرابی یعنی شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی گئی، پھر نہایت ڈھٹائی سے یہ الزام عربوں پر عائد کر دیا گیا کہ انہوں نے خود اپنی مسجد کو آگ لگائی ہے، اور جب یہ تمام حیلے بہانے ناکام ہو گئے تو ایک آسٹریلوی نوجوان کو جنونی قرار دے کر ساری ذمہ داری اس پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ یہ تمام جھوٹ اور مکاریاں اس یہودی فلسفے کی عکاس ہیں جس کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ مقاصد کے حصول کے لیے ہر طرح کا جھوٹ، فریب اور بد اخلاقی جائز ہے۔ فلسطین اور بیت المقدس کے حوالے سے تاریخی حقائق کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے یہودیوں کے ان تمام بے بنیاد دعووں کا پردہ چاک کیا ہے جن کی بنیاد پر وہ آج فلسطین پر اپنے حق ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ آج سے تقریباً تیرہ سو سال قبل مسیح میں بنی اسرائیل جب اس علاقے میں داخل ہوئے تھے تو انہوں نے مقامی باشندوں کا اسی طرح بے دریغ اور وحشیانہ قتل عام کیا تھا جس طرح یورپی قابضین نے امریکا میں سرخ ہندیوں کی نسل کشی کی تھی۔ ان کا یہ باطل نظریہ تھا کہ خدا نے یہ زمین انہیں میراث میں دی ہے اور انہیں حق حاصل ہے کہ وہ مقامی آبادی کو نیست و نابود کر کے اس پر قابض ہو جائیں۔ تاہم ان کا یہ قبضہ کبھی بھی مستقل اور پرامن نہیں رہا۔ آٹھویں صدی قبل مسیح میں اسیریا کے حکمرانوں نے شمالی فلسطین سے ان کا مکمل صفایا کر دیا، اور پھر چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے جنوبی فلسطین پر حملہ کر کے یہودیوں کو جلاوطن کر دیا، شہر کو تباہ و برباد کر دیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بنائے ہوئے ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ بعد ازاں ایرانیوں کے دور میں انہیں واپس آنے اور ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کا کچھ موقع ضرور ملا، لیکن ستر عیسوی میں رومی سلطنت کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں رومیوں نے ہیکل سلیمانی کو ایک بار پھر مکمل طور پر مسمار کر دیا، اور ایک سو پینتیس عیسوی میں تو یہودیوں کو پورے فلسطین سے ہی ہمیشہ کے لیے نکال باہر کیا۔ اس کے بعد سے اسلام کی آمد تک اور پھر صدیوں بعد تک فلسطین خالصتاً عربوں کا مسکن رہا۔ اس طویل تاریخی جلاوطنی کے باوجود، یہودیوں نے اپنی نسلوں کے ذہنوں میں مسلسل بیس صدیوں تک یہ زہر اور جنون بھرا کہ انہیں ہر صورت میں واپس بیت المقدس پر قبضہ کرنا ہے اور ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** اس تاریخی اور نفسیاتی پہلو کو اجاگر کرتے ہیں کہ کس طرح دنیا بھر کے یہودی صدیوں سے اپنی مذہبی تقریبات اور عبادات میں فلسطین پر قبضے اور ہیکل کی تعمیر نو کی دعائیں مانگتے اور اس کا عملی ڈراما رچاتے رہے ہیں۔ فری میسن جیسی عالمی اور پراسرار تحریکوں کا بنیادی مقصد اور مرکزی تصور بھی اسی ہیکل کی دوبارہ تعمیر کے گرد گھومتا ہے۔ لہٰذا، مسجد اقصیٰ کو آگ لگانا کوئی وقتی جذبہ یا اتفاقی حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ یہودیوں کی صدیوں پرانی اس منظم سازش کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مسجد کو گرا کر وہاں اپنا معبد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں نے تو ہمیشہ یہودیوں کے ساتھ حسن سلوک اور فیاضی کا مظاہرہ کیا تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا تو وہاں یہودیوں کا کوئی معبد موجود نہیں تھا بلکہ صرف کھنڈرات تھے۔ دنیا کے ہر خطے میں مظالم کا شکار ہونے والے یہودیوں نے اندلس اور دیگر مسلم ریاستوں میں ہی امن اور سکون کا سانس لیا۔ ان کی سب سے مقدس سمجھی جانے والی دیوار گریہ بھی سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیم کی عنایت اور فیاضی کے نتیجے میں انہیں زیارت کے لیے ملی تھی۔ مسلمانوں کے اس عظیم الشان احسان اور رواداری کا بدلہ صیہونیوں نے انتہائی بدترین احسان فراموشی، دھوکے اور سازشوں کی صورت میں دیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت فلسطین میں یہودی آباد کاری اور زمینوں کی خریداری کا آغاز کیا گیا۔ اٹھارہ سو ستانوے میں تھیوڈور ہرتزل کی قیادت میں باقاعدہ صیہونی تحریک کا آغاز ہوا، جس کا واحد مقصد ایک یہودی ریاست کا قیام تھا۔ **مولانا** کے بیان کردہ حقائق کے مطابق، انیس سو ایک میں ہرتزل نے عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید خان کے پاس ایک یہودی حاخام قرہ صو آفندی کے ذریعے یہ پیشکش بھجوائی کہ اگر سلطان فلسطین میں یہودیوں کو قومی وطن بنانے کی اجازت دے دیں تو یہودی سرمایہ دار ترکی کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن سلطان عبدالحمید خان نے اس پیشکش کو انتہائی حقارت سے ٹھکرا دیا اور جواب دیا کہ جب تک ترکی سلطنت موجود ہے، فلسطین یہودیوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ سلطان کے اس جرأت مندانہ اور ایمانی جواب کے بعد صیہونی طاقتیں سلطنت عثمانیہ کے خلاف مکمل طور پر متحرک ہو گئیں۔ فری میسنز، دونمہ اور مغربی افکار سے متاثرہ ترک قوم پرستوں کو ملا کر ایک انتہائی خطرناک سازش تیار کی گئی۔ سات سال کی مسلسل ریشہ دوانیوں کے بعد آخر کار انیس سو آٹھ میں سلطان عبدالحمید خان کو معزول کر دیا گیا۔ یہ تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے، اور **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** اس واقعے کے کرب کو بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سلطان کی معزولی کا پروانہ لے کر جو تین افراد ان کے پاس گئے، ان میں تیسرا شخص وہی یہودی حاخام قرہ صو آفندی تھا جو چند سال قبل ہرتزل کی جانب سے فلسطین کا سودا کرنے کی پیشکش لے کر آیا تھا۔ یہ مسلمانوں کی بے حسی اور کمزوری کی انتہا تھی کہ انہوں نے اپنے ہی خلیفہ کو معزول کرنے کے لیے ایک یہودی کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ اسی دور میں ترکی سلطنت کے ٹکڑے کرنے اور مسلمانوں کو عرب اور عجم کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازشیں بھی زور و شور سے جاری رہیں۔ ان تمام تر مظلومیت، سازشوں اور بحرانوں کے یلغار میں آج بھی امت مسلمہ کی بقا، کامیابی اور مسجد اقصیٰ کی بازیابی کا واحد اور ابدی راستہ وہی ہے جس کی نشاندہی **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے کی تھی، اور جو اللہ تعالیٰ کی سنت بھی ہے، یعنی مسلمان اپنے ایمان کو مضبوط کریں، علم میں کمال حاصل کریں، آپس میں اتحاد قائم کریں، دلوں میں تقویٰ پیدا کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ہر دم تیار رہیں۔
ابواب
1 جلدکوئی ابواب نہیں

