More Books
کتاب کا تعارف
تعارف
اوپر دی گئی کتابی معلومات کے تسلسل میں
کتاب کا تعارف
کتاب کے بارے میں
زیر نظر کتاب "اسلام اور ضبط ولادت" بیسویں صدی کے عظیم اسلامی مفکر اور مصلح **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** کی ایک شاہکار تصنیف ہے، جس میں انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی اور ضبطِ ولادت کی تحریک کا تاریخی، سماجی، معاشی اور شرعی نقطہ نظر سے انتہائی گہرا اور مدلل تجزیہ کیا ہے۔ یہ کتاب محض ایک فقہی بحث نہیں ہے بلکہ یہ اس مغربی تہذیبی یلغار کے خلاف ایک مضبوط بند ہے جو مسلمانوں کی خاندانی اقدار اور افرادی قوت کو کمزور کرنے کے لیے برپا کی گئی ہے۔ **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے کتاب کے آغاز میں اس تحریک کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا آغاز اٹھارویں صدی میں مالتھوس کے اس خوف زدہ نظریے سے ہوا تھا کہ دنیا کے وسائل محدود ہیں اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مصنف کے مطابق یہ نظریہ بنیادی طور پر غلط ثابت ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم اور تحقیق کے ذریعے وسائل میں بے پناہ اضافے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ **سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ مغرب نے جب اس خوف کی بنیاد پر مانع حمل تدابیر اور نسل کشی کی پالیسی اختیار کی تو انہیں اس کا خمیازہ اپنی ہی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ انہوں نے فرانس اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتوں کی مثالیں پیش کی ہیں جہاں شرح پیدائش کی کمی نے ان اقوام کو بوڑھا کر دیا اور ان کی عسکری و سیاسی طاقت کو زوال سے دوچار کر دیا۔ کتاب میں **مولانا** اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ دور میں ضبط ولادت کی تحریک اب محض وسائل کی کمی کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ نظام اور مادہ پرستانہ ذہنیت کا شاخسانہ ہے۔ لوگ اپنے معیارِ زندگی کو بلند رکھنے، تعیشات کے حصول اور ہمسایوں سے مادی مقابلے کی دوڑ میں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ عمل درحقیقت رزق کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے مادی اسباب پر انحصار کرنے کی ایک بدترین شکل ہے۔ **مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ** نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحریک مسلمانوں کے لیے ایک خاموش تباہی کا سامان ہے، جس کا مقصد اسلامی دنیا کی عددی اکثریت کو کم کرنا اور مسلمانوں کے دلوں سے توکل علی اللہ کی روح کو نکالنا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا دینِ فطرت ہے جو کثرتِ اولاد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ ایک مضبوط اور صالح معاشرہ تشکیل پا سکے۔ رزق کی تنگی کے خوف سے پیدائش کو روکنا اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔ خلاصہ یہ کہ **سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ** کی یہ تحریر مسلمانوں کو دعوتِ فکر دیتی ہے کہ وہ مغربی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنی تہذیبی جڑوں کو نہ کاٹیں بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں، کیونکہ قوموں کی بقا ان کی اخلاقی مضبوطی اور افرادی قوت میں مضمر ہے۔
ابواب
1 جلدکوئی ابواب نہیں

